اسلام آباد میں ایک شہری کو گھر پر سولر پینل لگانے کے باوجود 52,000 روپے کا بجلی بل موصول ہوا ہے جس پر متعلقہ محکمے کی شفافیت اور بلنگ کے نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پر شہری کا بل شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو مخاطب کیا اور کہا کہ شہری کے گھر سولر لگا ہوا ہے مگر بل 52,000 روپے آیا اور اس دوران کسی بھی قسم کی میٹر ریڈنگ نہیں کی گئی۔ اب محکمے کا موقف ہے کہ گرین میٹر پرانا ہے، بل ادا کریں اور نیا میٹر لگوائیں۔ کیا شہریوں کے ساتھ یہ کھلے عام ڈاکہ زنی نہیں؟
محترم اویس لغاری!آپ کے زیر انتظام @IESCO_Official کا کارنامہ،شہری کے گھر سولر لگا ہوا ہےمگر بل 52000 آگیا ہے،کوئی ریڈنگ کی ہی نہیں گئی۔اب کہہ رہے ہیں کہ گرین میٹر پرانا ہےبل اداکریں اور میٹر نیا لگوائیں ؟کیا شہریوں کےساتھ یہ کھلے عام ڈاکہ زنی نہیں ؟ @akleghari pic.twitter.com/gOP39e0Uja
— Azaz Syed (@AzazSyed) January 30, 2026
محفوظ الرحمن اعوان لکھتے ہیں کہ یہ ظلم ہے اس میں مقامی میٹر ریڈرز کی غلطی ہے گھر بیٹھے بل بنا کر بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
یہ ظلم ہے اس میں یقنا مقامی میٹر ریڈرز کی غلطی ہے گھر بیٹھے بل بنا کر بیجھ دیا محترم وزیر کو س کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) January 30, 2026
صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے بھاری بل بغیر میٹر ریڈنگ یا درست حساب کے عائد کرنا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور بجلی کی ترسیل کے محکمے کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔
کئی صارفین نے کہا کہ سولر سسٹم لگانے کا مقصد نہ صرف بجلی کے بل کم کرنا بلکہ لوڈ شیڈنگ سے بچنا بھی ہوتا ہے لیکن اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بجلی کی ریڈنگ اور بلنگ کے نظام میں ابھی بہتری کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے معاملات کی تحقیقات کر کے بلنگ کے نظام میں شفافیت اور صارفین کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔














