گوگل نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اور بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پراجیکٹ جینی متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ ڈیجیٹل دنیا بنا، دیکھ اور تبدیل کر سکیں گے۔
یہ ایک تجرباتی اے آئی ریسرچ پروٹوٹائپ ہے جو انٹرایکٹو ورچوئل ماحول تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل اے آئی نے زمین پر خلائی مخلوق کے پوشیدہ ٹھکانوں کی نشاندہی کردی
پراجیکٹ جینی فی الحال امریکا میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے گوگل اے آئی الٹرا سبسکرائبرز کے لیے دستیاب ہے، جبکہ مستقبل میں دیگر خطوں تک اس کی رسائی بڑھانے کا ارادہ ہے۔
یہ ٹول گوگل لیبز کی ویب سائٹ پر ہوسٹ کیا گیا ہے اور جینی 3 ورلڈ ماڈل، جیمنائی اور نینو بنانا پرو کی مدد سے کام کرتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی صارفین کو گوگل کے جنرل پرپز ورلڈ ماڈل تک براہ راست رسائی دیتی ہے، جو صارف کی حرکات کے مطابق ریئل ٹائم میں ماحول تخلیق کرتا ہے۔
روایتی اے آئی امیج یا ویڈیو ٹولز کے برعکس، پراجیکٹ جینی جامد مناظر کے بجائے مکمل متحرک اور قابلِ تعامل دنیاؤں پر توجہ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کروم جیمینائی کے نئے فیچرز کے ساتھ مزید اسمارٹ ہوگیا
گوگل کے مطابق پراجیکٹ جینی کی بنیاد 3 اہم فیچرز پر ہے، جن میں ورلڈ اسکیچنگ، ورلڈ ایکسپلوریشن اور ورلڈ ریمکسنگ شامل ہیں۔
ورلڈ اسکیچنگ کے ذریعے صارفین تحریری ہدایات یا اپ لوڈ کی گئی تصاویر کی مدد سے مناظر تخلیق کرسکتے ہیں، جن میں لینڈ اسکیپ، کردار اور حرکت کے انداز جیسے چلنا، اڑنا یا گاڑی چلانا بھی شامل ہیں۔
نینو بنانا پرو صارفین کو دنیا میں داخل ہونے سے پہلے امیجز کو بہتر بنانے کی سہولت دیتا ہے، جبکہ فرسٹ پرسن اور تھرڈ پرسن ویوز بھی دستیاب ہیں۔
ورلڈ ایکسپلوریشن کے دوران صارفین ان دنیاؤں میں گھوم پھر سکتے ہیں، جہاں اے آئی صارف کی حرکات کی بنیاد پر اگلے مناظر خود تخلیق کرتا ہے، یوں ایک مسلسل اور ہموار تجربہ فراہم ہوتا ہے۔ اس دوران کیمرہ اینگلز کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی براؤزر جلد متوقع، کیا گوگل کروم کا متبادل بن سکتا ہے؟
تیسرا فیچر ورلڈ ریمکسنگ ہے، جس کے ذریعے صارفین پہلے سے بنی دنیاؤں میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثر کن دنیاؤں کی گیلری اور رینڈمائزر ٹول بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ مکمل تخلیقات کو ویڈیو کلپس کی صورت میں ایکسپورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس نئے قدم سے ڈیجیٹل تخلیق کے امکانات مزید وسیع ہو گئے ہیں اور مستقبل میں گیمنگ، تعلیم اور تخلیقی صنعتوں میں انقلابی تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔













