ناسا کے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی 2008 میں کھینچی گئی ایک شاندار تصویر دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔
اس تصویر میں 2 دور دراز کہکشائیں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں اور ان کے ملاپ کا منظر ایسا لگتا ہے جیسے خلا میں پرندوں کی ایک جوڑی تیررہی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا زندگی کے آثار تلاش کے لیے 20 سیاروں پر منی ٹیلی اسکوپ بھیجے گی
یہ کہکشائیں زمین سے تقریباً 650 ملین نوری سال دور ہیں اور فلکیاتی برج قوس میں واقع ہیں۔ اس نادر مظہر کو ESO 593-8 کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ کہکشاؤں کے آہستہ ملاپ کی ایک کلاسک مثال سمجھا جاتا ہے۔
تصویر میں ظاہر ہونے والا پرندے جیسا منظر دراصل کشش ثقل اور تائیڈل فورسز کی وجہ سے بنتا ہے، ماہرین فلکیات کے مطابق جب 2 کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں تو یہ فورسز ان کی شکل بدل دیتی ہیں،اس عمل سے نئے ستارے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ناسا کے مطابق یہ کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب آ کر بالآخر ایک کہکشاں میں ضم ہوجائیں گی، اور یہ عمل لاکھوں یا کروڑوں سالوں میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سے ہمیں ایک ’سست رفتار‘ حرکت کا تاثر ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بار پھر آسمان پر 6 سیاروں کا نظارہ کب کیا جاسکے گا؟
ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے خلا کی بہت سی تصاویر لی ہیں، لیکن یہ تصویر اپنی وضاحت، خوبصورتی اور غیر معمولی شکل کی وجہ سے سب سے منفرد سمجھی جاتی ہے۔ تصویر ہمیں خلا کے پیچیدہ مظاہر اور کہکشاؤں کے ملاپ کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔














