غیر مسلم کبوترا قبیلے میں جوان لڑکیاں عارضی طور پر ’پَٹے‘ پر دینے کے عجیب رواج کا احوال
’ہم کو تو اِدھر کوئی مسلمین پانی بھرنے بھی نہیں دیتا۔ جب ہم 10،12 گھروں میں جاکر منت سماجت کرتی ہیں، تبھی جاکر کسی ایک گھر کی وڈیری مائی اجازت دیتی ہے کہ ٹھیک ہے، تم پانی بھرکے لے جاؤ۔ دوسرے گھروں کے لوگ تو پانی کی بالٹی یا گھڑا بھرنے کی اجازت دینے کے بجائے ڈانٹ کر بھگا دیتے ہیں۔ ہماری حیاتی بہت ہی مشکلاتوں اور دکھوں بھری ہے بھائو! میں تمہیں کیا کیا بتاؤں؟۔ تم کاغذ کالے کرکرکے تھک تھک جاؤگے پر ایک کبوتری کے دکھوں کو بھی پورا نہیں لکھ سکو گے‘۔
نصیباں کبوتری کے خوبصورت چہرے پر بیزاری کے تاثرات تھے اور وہ میرے وائس ریکارڈر کی جانب پشت کیے بیٹھی تھی۔ اس کے گھر کے بقیہ لوگ اس کی باتوں کی تائید کرنے کے لیے باربار اثبات میں سر ہلارہے تھے۔
نچلی ذات کے ہندوؤں کی کبوتریاں یا کبوترا کمیونٹی کی اصل نسل کیا ہے؟ اور یہ لوگ کہاں سے سندھ میں آئے؟
ہم ان سارے سوالات کے جوابات کی تلاش، مستند محققین کے لیے چھوڑتے ہوئے، یہاںان کے موجودہ لائف اسٹائل،حالات اور واقعات پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے سندھ کے صحرائے تھر کے چند شہروں کے مضافات میں واقع ان کے جھونپڑوں کے کئی پھیرے لگائے ہیں،تب کہیں جاکر ان سے اتنی گفتگو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ کسی قدر ان کی صورت گری کرسکیں۔
کبوتریوں سے میرا پہلا ’ٹاکرا‘ زیریں سندھ میںمیروں کے ایک شہر میں ہوا تھا، جہاں میں چند سال پہلے سردیوں کے موسم میں دوستوں سے ملنے گیا ہوا تھا۔ میں اپنے دوست کے کاروباری دفتر کے اندر گرم ماحول میں بیٹھا ہوا تھا کہ فرنٹ کے بند شیشوں سے کچھ چہرے آکر چپک گئے۔ یہ بھکاری عورتیں لگتی تھیں اور ان میں سے کچھ عورتوں کے کھنڈر کھنڈرچہرے بتاتے تھے کہ اپنے دورِ جوانی میں یہ ’عمارتیں‘ بہت عظیم رہی ہوں گی۔
’سومرو صاحب! ان کو پہچانتے ہیں؛ یہ کون ہیں؟‘
میرے میزبان نے مجھے مخاطب کر کے پوچھا تو میں نے ایک بار، پھر ان عورتوں اور لڑکیوں کو غور سے دیکھا ۔۔۔ مگر کسی کو پہچان نہ سکا۔ ویسے بھی ٹالپرمیروں کے اس قدیم شہر میں کسی سے بھی میری رشتے داری نہ تھی۔
میرے چہرے پر الجھن کے تاثرات دیکھ کر میرے دوست نے مجھے معنی خیز انداز میں دیکھا اور انکشاف کرنے والے انداز میں بتایا:
’سائیں! یہ کبوتریاں ہیں‘۔
میں نے ان خواتین کو دیکھا مگر مجھے کسی کے بھی پر نظر نہ آئے۔
’کبوتریاں کیا ہوتی ہیں؟‘ میں نے پوچھا۔
’سائیں!یہ کبوترہ کمیونٹی کی لڑکیاں ہیں ۔ نچلی ذات کے ہندو لوگ ہیں یہ۔ ان کے ہاں بڑا عجیب رواج ہے کہ یہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیاں ’مقاطعے‘ (Leasing)پر دے دیتے ہیں۔ دولت مند مسلمان وڈیرے اور زمیندار لڑکی کے ماں باپ کو ایڈوانس رقم دے کے، ان سے 5 یا 10 سال کے لیے لڑکی ’پٹے‘ پر لے لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ہر ماہ لڑکی کے ’کرائے‘ کے طور پر طے شدہ رقم بھی ادا کرتے رہتےہیں جو 5 سے 25 ہزارروپے تک ہوسکتی ہے‘۔
’مگر سائیں! یہ تو غلامی ہوئی۔ کیا 21ویں صدی میں بھی اسی انسان کو اس طرح غلام بنایا جاسکتا ہے؟۔ لڑکی کوئی زمین یا پلاٹ تو نہیں ہے کہ اسے لیز (Lease) پر دے دیا جائے؟‘
میں نے کہا۔
’دیکھ لیں، اس کمیونٹی میں تو یہ رواج بہت پرانے دور سے موجود ہے۔۔۔ مگر یہ لوگ ہرکسی کو اس سے متعلق نہیں بتاتے‘۔
میں نے اپنے دوست سے گزارش کی کہ وہ ان کبوتریوں سے میری گفتگو کروائے؛ مگر انہوں نے یہ کام اپنے ایک اور دوست کے حوالے کردیا جو اس کمیونٹی سے متعلق کافی معلومات رکھنے کی وجہ سے ’ماہر کبوتریات‘ کہے جانے کے مستحق تھے۔
دفتر کے فرنٹ(Front) شیشے سے چہرے چپکائے ہوئے، وہ کبوتریاں بہت ہی اسٹائلش انداز میں خیرات طلب کررہی تھیں۔ میں نے دروازہ کھلوالیا تاکہ ان کی آواز سن سکوں۔
’سیٹھ!ڈے ناں پنجاہ روپے۔اندر بیٹھ کے ہماری باتیں کیوں کرتے ہو؟؛ سامنے بولو نا‘۔ اس عورت کے لہجے میں اندر بلوائے جانے کی خواہش تھی مگر میرے میزبان نے جب اسے جھڑک دیا تو وہ منہ بسور کر بولی:
’اچھا سیٹھ! ہمیں خیرات دے تو ہم آگے جائیں‘۔
میرے دوست ان کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے انہوں نے اپنے بٹوے سے 50 روپے کے بجائے، 100 روپے کے کئی کڑک نوٹ نکالے اور اپنے سامنے ٹیبل پر رکھ کر ان کے او پر پیپرویٹر رکھ دیا۔اتنے سارے پیسے دیکھ کران غریب عورتوں کی آنکھوں سے لالچ صاف چھلکنے لگا۔
میرے دوست نے انھیں کہا:
’میرے یہ مہمان کراچی سے آئے ہیں۔ان کو اپنی رسم ورواج سے متعلق کچھ بتاؤ‘۔
’کیا بتائیں؟ تم کو تو سب پتہ ہے ،تم ہی انہیں بتادونا!‘۔
اس کے بعد وہ عورتیں آپس میں کسی بحث میں لگ گئیں۔ ان کی زبان میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ آخرکار وہ کسی نتیجے پر پہنچیں اور ان میں سے ایک نے پوز(Pose)مارکر مجھ سے کہا:
’ہاں پوچھو،کیا چاہیے تمھیں؟‘
میں نے پوچھا:
’یہ بتائو کہ کبوتری کیا ہوتی ہے ؟‘
اس سوال پر انھوں نے دوسرے کو دیکھا اور بے دھڑک ہنس پڑیں۔
پھر اس کے اس عورت نے زبانی جواب دینے کے بجائے، کھڑے ہو کرعملی طور پر جواب دیا۔ اس نے ماڈل گرلز کی طرح پوز مارا اور انھی کی طرح کیٹ واک کے طور پر ہمارے سامنے 2،3 قدم آگے پیچھے لیے اور پھر گھوم کربے باکی سے میرے سامنے کھڑی ہوکر کہنے لگی:
’یہ ہوتی ہے کبوتری!۔ٹھیک ہے اب ؟‘
’نہیں،یہ ٹھیک نہیں ہے ۔تم اپنی زبان سے بتاؤ کہ آپ کی قوم کبوتری کیا ہے؟ اور آپ لوگ اپنی لڑکیاں مسلمان زمینداروں کو کیوں دیتے ہو؟‘‘۔
’تم ہمارے جھونپڑوں میں آئو۔۔۔ اور ادھر ہمارے مُکھیا لیمے سے ’وات‘ (بات)کرو، وہ تمہیں سب کچھ بتائے گا کہ اپنی قوم کونسی ہے؟۔ ہمیں تو اماں اور باپو نے ایہو ای وتایا ہے کہ ہم کبوتریاں ہیں‘۔
اس طرح نصیباں کبوتری اور اس کی ساتھی عورتوں سے طے ہوگیا کہ میں اور میرا دوست شام چاربجے ان کے جھونپڑوں میں جائیں گے جوکہ میرپور خاص شہر کے مضافات میں ’کیمپنگ سائٹ‘ کی طرح بکھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے پورے 4 بجے آنے کا کہا تھا کیوںکہ ان کے کہنے کے مطابق وہ صبح سویرے جھونپڑوں سے نکل کر ’کام‘ پر جاتی ہیں اور سہ پہر کو واپس گھروں کو روانہ ہوتی ہیں۔ چونکہ سردیوں کے چھوٹے دن کی وجہ سے اندھیرا جلد چھاجاتا ہے؛ لہٰذا انھیں رات کا کھانا پکانے میں دشواری ہوتی ہے کہ ان کے جھونپڑوں میں بجلی نہیں ہوتی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے مرد یعنی کبوترے اپنی عورتوں کی غیر موجودگی میں گھر کا کام کاج نمٹانے کے ساتھ ساتھ بچے بھی سنبھالتے ہیں اور گھر کی صفائی ستھرائی بھی کرتے ہیں ۔مطلب یہ کہ عورتیں کماتی ہیں اور وہ ان کی جگہ پر گھر سنبھالتے ہیں۔ ان کے کچھ مرد جو اکھڑ قسم کے ہوتے ہیں، وہ یہ سب نہیں کرتے۔ یا تو وہ جھونپڑیوں میں پڑے رہتے ہیں یا پھر آپس میں تاش کھیلتے رہتے ہیں ۔ان کے بچے جو قریب ہی کھیل کود کے دوران شور مچارہے ہوتے ہیں، ان پر نظر رکھنا اور حسب توفیق وقفے وقفے سے انہیں گالیوں سے نوازنا بھی ’کبوتروں‘ کا فرض ہوتا ہے ۔
شام کو پورے 4 بجے جب ہم کبوتریوں کی بستی میں پہنچے تو وہاں کتوں اور بچوں نے بالترتیب بھونک کر اور شور مچاکر ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے بچوں کو بتایا کہ ہمیں مُکھیا لیمے سے ملنا ہے۔ اس پر کانٹوں کی باڑھ کی دوسری جانب سے ایک کرخت آواز آئی:
’ کون ہے بھائی؟ماہرے کُوں کون پوچھتا ہے؟‘
میرا ساتھی اپنے چہرے پر معذرتی تاثرات سجاکر ابھی اپنا تعارف کروانے والا ہی تھا کہ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور ذرا رعب دار آواز میں پکارا:
’اڑے او! لیما! جلدی سے باہر آ کے بات کر‘
’حاضر سائیں! حاضر، ابھی آتا ہوں‘۔
اگلے ہی منٹ میں ایک موٹا تازہ بندہ صرف شلوار پہنے ہمارے سامنے کھڑا تھا۔
’جی بابا سائیں! حکم کریں۔۔۔ پر نہیں نہیں، پہلے اندر چلو۔بیٹھ کر بات کرتے ہیں‘۔
ہم نے اس کو پیشکش فوراً قبول کرلیااور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے اندر جھونپڑے میں آپہنچے۔ اس بستی کے کسی بھی جھونپڑے کی اونچائی اتنی نہ تھی کہ اس کے اندر کوئی بندہ کھڑا ہوسکے۔ یہ جھونپڑے بھی نہ تھے بلکہ خانہ بد وشوں کے چھوٹے چھوٹے خیمے تھے جوانہوں نے پرانے کپڑوں اور رِلیوں کو جوڑکر بنائے تھے۔ ہم لیمے کے خیمے کے اندر آئے تو اس کی عورت نے خیمے کے اوپر لٹکتی ہوئی اضافی رِلی اتار کر فوراً نیچے بچھادی۔ ہم اس پر بیٹھ گئے مگر لیما عاجزی سے تب تک سامنے کھڑا رہا ،جب تک میں نے اصرار کرکے اسے بٹھا نہ دیا ۔
کبوتریوں کی یہ بستی کسی زمیندار کے پلاٹ پر عارضی طور پر قائم ہے، جس میں نو دس گھر ہیں۔ اس طرح کی چھوٹی سی دو اور بستیاں ایک ڈیڑھ ایکڑ کے فاصلے پر دوسری زمین پر نظر آرہی تھیں۔ تینوں بستیوں کے گرد الگ الگ کانٹوں کی باڑھ دی گئی ہے۔ مجھے اس حفاظتی باڑھ کا کوئی جواز نظر نہ آیا کیوںکہ ان کے نزدیک ان کی قیمتی ترین متاع، ان کی عورتیں ہوتی ہیں جو انہیں کماکر کھلاتی ہیں۔وہ عورتیں جوانی میں والدین کے لیے ہزاروں لاکھوں روپے یک مشت مہیا کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ کبوتریوں کی عزت وعصمت کے حوالے سے ان کا جو تصور ہے ، وہ پہلے ہی ہم جان چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی جھونپڑیوں میں کوئی قیمتی چیز، مال واسباب بھی نظر نہ آتا تھا۔ پھر آخر یہ باڑھ کیوں دی گئی تھی؟۔ ہم نے لیمے سے نصیباں کبوتری کے حوالے سے بات شروع کی جوکہ پچیس 30 سال کی بھرپور عورت تھی۔ وہ صبح کی طر ح اب اپنے اس جھونپڑے میں بیٹھی تھی اور زبان سے کم، آنکھوں سے زیادہ بات کررہی تھی۔صبح کی ملاقات کے برعکس اس وقت وہ گھریلو قسم کی عورت لگ رہی تھی جوکہ اپنی جھونپڑی کے سامنے بیٹھی لکڑی کی اوکھلی میںمرچیں کوٹ رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کو یہ تاثربھی دے رہی تھی کہ وہ ہمیں نہیں جانتی۔ اس کا شوہر اس سے چھوٹی عمر کا لگ رہا تھا، جس سے صرف دو مہینے پہلے نصیباں کی شادی ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے نصیباں 10،11 برس کے لیے سندھ کے ایک وڈیرے کے پاس رہی تھی۔ وہ اپنی ’لیز‘ کی مدت پوری کرکے، جب اپنے کنبے میں واپس آئی تو رسم ورواج کے مطابق اس کی شادی کرادی گئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھاکہ وہ کس عمر میں وڈیرے کے پاس بھیجی گئی تھی؟
’پتا نہیں۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی‘۔
’وڈیرا تمہیں کیسے رکھتا تھا؟ خرچہ وغیرہ دیتا تھااور تمہارے ماں باپ کو بھی مہینے کے مہینے پیسے بھجواتا تھا؟‘
اس پر وہ بتانے لگی:
’جب اماں ابا سے اس نے میر ی بات کی تھی تو مجھے کسی بات کا پتا ہی نہیں تھا۔ مجھے میری ماں نے تیار کیا اور کہا تھا کہ تم سائیں کے ساتھ چلی جائو، یہ تمہیں اچھی طرح رکھے گا۔ اچھا کھاناکھلائے گااور اچھے اچھے کپڑے بھی لے کر دے گا۔ میں نے اس پر اماں سے پوچھا تھا کہ میں پھر رات کو واپس آکر ادھرہی سوئوں گی نا؟ اس بات پر میری ماں نے مجھے چانٹا مار دیا تھااور کہا تھا۔ اب اس سائیں کا گھر ہی تمہارا گھر ہے ۔تم اس کی بیوی ہوگئی ہو۔ دیوالی اور ہولی پر تم ہمارے پاس آئوگی۔ اس کے بجائے اگر تم بھاگ کر آئوگی تو ہم تمہیںاپنے گھر میں رہنے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد میں سائیں کے ساتھ چلی گئی تھی اور ابھی دو ڈھائی مہینے پہلے جب میرا مُدا (مدّت) پوراہوا تو امی ابا کے پاس واپس آگئی ہوں اور انھوں نے لیمے کے ساتھ میری شادی کر دی ہے‘۔
’وہاں تمہیں کیسے رکھا جاتا تھا؟‘
’وہاں میں اکیلی رہتی تھی۔ سائیں کا گھراور بال بچے دوسرے شہر میں رہتے تھے۔ میرے ساتھ ایک نوکرانی اور چوکیدار رہتے تھے۔ سائیں صرف ہفتے کی شام کو ادھر آتا تھا اور اتوار کی شام پھر واپس چلا جاتا تھا۔ چوکیدار اور نوکرانی ویسے تو گھر کا کام کاج کرتے رہتے تھے مگر اصل میں وہ میری چوکیداری کرتے تھے کہ کہیں نصیباں بھاگ نہ جائے۔ وہ نوکرانی سارا دن مجھے سمجھاتی رہتی تھی کہ سائیں سے کس طرح بات وات کرنی ہے ؟۔۔۔ اور اگر سائیں کچھ پوچھے تو کس طرح جواب دینا ہے؟۔۔۔اگر سائیں آجائے تو کیا کیا تیاری کرنی ہے ؟۔ وہ ہفتے کی صبح مجھے نہلاتی، بالوں کو سیمپو لگاتی تھی، دانتوں کو پیشٹ کراتی تھی اور میرے ہاتھوں پیروں کو مہندی لگا کر صاف ستھرے کپڑے پہناتی تھی ۔وہ روزانہ رات کو میرے ہی کمرے میں فرش پررلی بچھاکر سوتی تھی۔ پر جب سائیں آجاتا تھا تو اپنا بستر برآمدے میں بچھا لیتی تھی‘۔
’’مینڈا سائیں‘‘سے اپنی ہفتہ وار ملاقات کا نقشہ کھینچتے ہوئے نصیباںنے اس طرح بتایا :
’’وہ ہفتے کی شام چار پانچ بجے اپنی جیپ میں آتا تھا۔ وہ اپنے ساتھ کیلے،سیب،امرود اور دوسرا فروٹ ،نمکو اور بھنی ہوئی دال کی تھیلیاں، برف سے بھرا ہوا کولر اور بوتلیں لاتا تھا‘۔
’کھاناتوسائیں تمہارے ہاتھ کا پکا ہوا کھاتا ہوگا؟‘
’کبھی بھی نہیں۔اس کا کھانا نوکرانی تیار کرتی تھی اور سائیں مجھ سے الگ بیٹھ کر کھانا کھاتا تھا۔ اس نے مجھے کہہ رکھا تھا کہ تم کھانا کھالیا کرو، میرا انتظار نہ کیا کرو۔ اس نے کبھی ایک بار بھی میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھایا اور نہ ہی کسی ایسے برتن میں کھایا پیا، میں جس میں کھاتی پیتی تھی‘۔
’یہ کیوں؟‘
’وہ نمازی آدمی تھا اور کہتا تھا کہ جو آدمی مسلمان نہیں، اس کے ساتھ کھنا پینا جائز نہیں ۔میں یہ باتیں سن کر بہت روتی تھی مگر وہ اپنی رشم پر قائم رہتا تھا‘۔
’تمہارے ماں باپ کو سائیں نے جو پیسے دیے، ان کے متعلق تمہیں پتا چلا کہ کتنے تھے؟‘۔
’ہاں، اماں نے بتایا تھا تیرے باپو کو 60ہزار ملے ہیں اور جب تک تم سائیں کے گھر میں رہو گی، تب تک ہمیں ہر مہینے تمہاری تنخواہ ملتی رہے گی‘۔
خود تمہیں کتنے پیسے ملتے تھے؟
’پہلے پہلے تو مہینے کے ہجار روپے پھر 1500 روپے ملتے تھے ۔آخری آخری دنوں میں پانچ ہجار روپَئے دیتا تھا اور وہ کہتا تھا اگر تمہیں ضرورت ہو تو اور بھی لے لیا کرو‘۔
’اپنے رشتے داروں میں جانے کے لیے چھٹی ملتی تھی؟‘
’ہاں،ہولی اور دیوالی پر آتی تھی۔ پھر روزوں والی عید اور گوشت والی عید پر جب سائیں اپنے گھر پر ٹھہرتا تھا، تب بھی مجھے دو دو دن کی چھٹی دے دیتا تھا ۔میں جب سائیں کے ڈرائیور کے ساتھ جیپ میں چڑھ کر اپنے ویڑھے میں آکر اترتی تھی تو سب لوگ رعب میں آجاتے تھے۔ واپس بلانے کے لیے بھی سائیں جیپ بھیجتا تھا‘۔
’وہاں رہنے کے دوران سائیں نے کبھی مار پٹائی کی؟‘
’ہاں کئی بار۔ جب وہ نشے میں ہوتا تھا تو بہت مارتا تھا اور گالیاں بھی دیتا تھا۔ بعد میں جب مناتا تھا تو پیسے دیتا تھا اور میں مان جاتی تھی کیوںکہ وہاں اور کون تھا، جس سے میںروٹھتی!‘
’اس کا مطلب ہے تم کبھی روٹھ کر بھی ماں باپ کے پاس نہیںآئی؟‘
’کس آسرے پر آتی؟۔ اماں والوں کو ہر مہینے پیسے مل رہے تھے توابا مٹھی میں سگریٹ دباکرپیتا پھرتا تھا اور جوا کھیلتا تھا۔ میرے بھائی بہت چھوٹے تھے ،اس لیے کسی کا بھی آسرا نہیں تھا‘۔
نصیباں سے گفتگو کے دوران کئی ’’سخت مقامات‘‘ آئے، جن کے بیان کرنے میں سماج اور شرم مانع آتی ہے، اس لیے ان باتوں کو سیلف سینسر کی نظر کرتے ہیں۔
ایک کبوتری جب کسی مسلمان وڈیرے کے پاس طے شدہ مدت پوری کرکے، اپنے خاندان اور کمیونٹی میں واپس آتی ہے تو اس کی اپنے کسی رشتہ دار سے شادی کرادی جاتی ہے۔ اس کایہ شوہر کبھی اس کی گزشتہ زندگی سے متعلق بات نہیں کرتا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کبوتری ’لیزنگ‘ پر ہوتی ہے ، تب تک اس کی ماں ٹونے ٹوٹکے کرکے اسے حاملہ ہونے نہیں دیتی۔ لیکن اپنی کمیونٹی میں شادی ہوجانے کے بعد بچے پیدا کرنا اس کا فرض ہوتا ہے۔ وہ اپنے شوہر کی مکمل وفادار ہوتی ہے۔ بھیک وغیرہ مانگنے کے دوران وہ لوگوں سے ہنسی مذاق ضرور کرتی ہے اور اس دوران اشارے بازیاں اور معنی خیز جملے بھی بولے جاتے ہیں مگر اس سے بڑھ کر کوئی بات برداشت نہیں کی جاتی۔
شادی شدہ کبوتری اپنی ذات میں مجموعہ اضداد و کثرتِ اولاد کی حامل ہوجاتی ہے۔ وہ صبح کو ’’کام ‘‘ پرگھر سے نکلتی ہے ۔ شہر بھر کے شوقینوں کو ذومعنی۔۔۔ بلکہ سہ معنی جملوں کے حملوں کا شکار کرتی، وہ قطرہ قطرہ دریا، یا روپیہ روپیہ ذخیرہ کرتی، شام 4 بجے واپس گھر کی راہ لیتی ہے۔ اتنا جلد’’دھندے‘‘ سے واپسی کی بھی تکنیکی وجوہات ہوتی ہیں جو ہمیں شرماں کبوتری نے بتائیں:
’ماہرے گھروں میں بِزلی(بجلی) تو ہوئے نئیں۔ شام کو ہندیرے میں کھانڑاں کس طراں پکاویں؟۔ اس لیے جلدی کام کھتم کرکے، سام کے سمے واپس گھر آجاتے ہیں۔ ماہرے پکھے کانٹوں اور جھاڑیوں سے بنے ہوتے ہیں، اس لیے ای بات دیکھنا پڑے ہے کہ کوئی چنگاری ہوا سے باڑھ میں نہ چلی جاوے‘۔
اس نے دوسری وجہ یہ بتائی کہ ان کے پاس پانی کی شدید قلت رہتی ہے، اس لیے بھی اگر کبھی آگ وغیرہ لگنے کا واقعہ ہوجائے تو اسے بجھانے کا بروقت بندوبست نہیں ہوسکتا ۔اس لیے کبوترہ قبیلے کے لوگوں کی یہ عادت بھی پختہ ہوچکی ہے کہ وہ چولہے کو بجھانے کے لیے پانی کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔اس کے بجائے ان کی عورتیں چولہا ٹھنڈا کرنے کے لیے آگ اور انگاروں پر مٹی ڈال دیتی ہیں۔ اس سے بھی دوہرا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔مٹی میں دفن انگارے پوری طرح بجھ نہیں پاتے، اس لیے جب اگلے وقت چولہا سلگانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اوپری مٹی ہٹاکر، نیم زندہ انگاروں کو پھونکیں مارمار کر زندہ کرلیا جاتا ہے۔ اس طرح ’تیلی لگے نا تیل۔آگ جائے پھیل‘۔
کبوتریوں کے دوسرے ویڑھے میں ہمارا اس وقت پہنچے، جب ایک کبوتری دوپہر کے بجھے ہوئے چولہے میں خشک ٹہنیاں اور ردی کاغذ ڈالے پھونکیں ماررہی تھی۔ اس کے لال بھبھوکا چہرے،سرخ تر آنکھوں اورطوطا چونچ جیسی خوبصورت ناک سے پانی بہہ رہا تھا ۔۔۔ مگر اسے ’نظر بٹو‘ کی ان علامات کی کوئی پروانہ تھی۔ وہ اپنے کام میں اس طرح مگن تھی کہ ہر 2،3 مسلسل پھونکیں مارنے کے بعد، ٹہنی سے کرید کرید کر آگ کے امیدوار انگاروں کو ظاہر کرتی، دونوں ہتھیلیاں زمین پر ٹیکتی اور کمر کو کڑی کمان کی طرح جھکا کر زور دار پھونکیں مارنے لگتی۔ اس عمل کے دوران اس کے کھلے بال چہرے کے دونوں جانب لٹک کر اسے ڈسٹرب کرنے لگتے تو وہ جھلاہٹ سے سرکو نفی میں جھٹکے دے کر بالوں کو ادھر ادھر کرنے کی کوشش کی کرتی۔ اس وقت اس نوخیز کبوتری کے چہرے پر جوتاثرات ابھرتے، ان کا مطلب یہ نکلتا تھاکہ جیسے کہہ رہی ہو کہ پھونکوں سے یہ آگ جلائی نہ جائے گی!۔
یہ ہیر کبوتری تھی، جس کا رانجھا یا شوہر وزیر اس کے قریب بیٹھا ایک پرانے فلمی رسالے میں اپنا چھوٹا سا چہرہ چھپائے ،اداکائوں کی تصویریں دیکھ رہا تھا۔
’اے ہیر!ایہہ اوئی ہوئی نا،جس کی ِپھلم امرکوٹ میں دیکھی ساں؟‘
(اے ہیر!وہی (اداکارہ) نہیں، جس کی فلم عمرکوٹ میں ہم نے دیکھی تھی؟)۔
’اے پھٹکار وِس پہ۔ آگ نہ جلے، توں پھوٹو تکے موں تنگ کریں۔
(اے لعنت کرو اس پر۔ایک تو مجھ سے آگ نہیں جل رہی، اوپر سے تم مجھے فوٹو دکھاکے تنگ کررہے ہو)۔
’’سلام وزیربادشاہ!‘‘میں نے اس کے مشغلے میں مداخلت کی۔
’آؤ، آؤ سائیں وڈا! بھلی آیوں۔ حکم کرو‘۔
لیکن میرے حکم یا عرض کرنے سے پہلے میرے ساتھ آنے والے کبوترے نے اسے تسلی بخش طور پرہمارا تعارف کرادیا، جس پر وہ اپنے دکھڑے رونے لگ گیا:
’سائیں وڈا!کیا بتاویں تجھ کو۔ ست بچے ہیں، اے (بیوی کی طرف اشارہ کرکے)ہے، ماں ہووے، تو نو(9)جی کیسے گزارہ کریں؟ بھوکے پیٹ بچاں سے بھیک کے لیے بھی آواز نانکلتی۔ ماں آپ بیمار ہوں، کبھی مجوری کروںہوںتو کبھی آرام ہوجاوے۔ اے میری ہیر کا آسرا اے۔ پر او بولے مرد تنگ کریں، میں مَنگڑں نہ جاؤں ۔ تم بتاؤ، ماہرا گجارا کیسے ہو؟‘
’تیں مادھوری کے پھوٹو دیکھ کے گجارہ کرلے۔ رات بولا،پھر صبح بولا کہ 10 روپے کا گاسلیٹ (مٹی کا تیل) لادے۔ پر تو سنتا کب ہے میری وات؟‘
ہیر نے دھوئیں کے بادل میں سے چہرہ باہر نکال کے شوہر کو ڈانٹ پلائی۔
’’اوسوئر کا پِلاکس باسطے بیٹھا اے ؟‘‘۔
وزیر نے اپنے بڑے بیٹے کی ولدیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
میں نے دیکھا کہ یہ گھریلو جھڑپ طول کھینچ رہی ہے تو مداخلت کرکے مطلب کی بات پوچھ لی:
’وزیر!یہ بتاؤ کہ ادھر تم لوگوں کے کتنے گھر ہیںاور باقی کبوترے سندھ میںکہاں کہاں رہتے ہیں؟‘
’’سائیں وڈا! سارے سندھ کا توبتاڑاں مسکل ہے۔ باقی انڈیا میں بہت کبوترے ہیں۔ یہ راجستھان کہہ لو،جو دھ پور ماں ہیں۔او ۔۔۔ دہلی والے علاقے تک چلا جا، کبوترے ای کبوترے ملیںگے تجھ کو‘۔
’عمر کوٹ، ٹنڈوالہ یار اور دوسرے شہروں میں بھی تو ہیںنا؟‘
’کیوں نئیں ہیں!امر کوٹ ماں تو پوری جات برادری بیٹھی اے اپڑیں۔ بچاؤ بند چلا جا، میل موری، کنگورو، جمورو، اکراڑو ہوگیا۔ای سب کبوترے لوگ کے شہر ہیں ۔ ہم لوگ 300 سال سے میربادشاہوں کے سِکاری ہووے ہیں۔ ماہرے بڑے بُڈھے جنگل میں ہانکا کرنے کا کام کرتے تھے ۔اُس بَقَت ہماری گھَنی عجّت ہوتی تھی۔ سِکارکرنا چھوڑا تو ہم کھُد حالات کے سِکار بنڑں گئے بھائی!۔ اب تو بھیک مانگوں ہوں،گجارہ کروں ہوں‘۔
اتنی دیر میں ایک عورت ٹہلتی ہوئی آنکلی اور پوچھنے لگی:
’’اے بھائی!کوئی امداد بھی دیووگے کہ کھالی پیلی پھوٹو بنڑا کے جاووگے کہ کبوتریاں ایسی ہوتی ہیں!‘
’امداد ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے،وہ سرکاری لوگ آکر دیں گے آپ کو۔ ہم تو آپ کے نام ، کام اور حالات پوچھنے آئے ہیں۔اچھا یہ بتاؤ بچے کتنے ہیں آپ کے ؟‘
’ماہرانام سانتی ہے ۔ماہرے ست بچے ہیں‘۔
’اوہ سات!‘۔ میں نے آہستہ سے کہا،مگر شانتی کی قوت سماعت بہت تیز تھی۔
’اے ست کے ست بچے ماہرے ہیں۔ہیر کے ابھی کوئی بچہ نئیں اے۔ ای ست بچے اس کے سوہر کی پہلی سادی کے ہیں۔ ماہری لڑکیاں سب بڑی ہیں۔ لڑکا چھوٹا اے۔کماوڑں والا بندہ او… اُدھر چار پائی پہ پڑا اے۔ مریج اے دمے کا۔ دورے پڑیںتو بے حال ہوجاوے۔ اس باسطے امداد کی بات کری میں‘۔
شانتی بات کرتے کرتے ہتھیلی پر رکھے سُرمئی پاؤڈر سے چٹکی اٹھاتی اور باری باری نتھنوں میں ڈال دیتی، جس سے ہمارے دوست کی جمالیاتی حس پر ضرب پڑرہی تھی۔ آخر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے پوچھ ہی لیا:
’یہ کیا کررہی ہو تم؟‘
’اے ناس(نسوار) اے ۔ناک میں لیتی تو سکون ملتا اے‘
اس پلاٹ کبوترہ برادری کے چارگھر موجود ہیں، جن میں سومار،جمعہ،آچار اور سندر کے گھر شامل ہیں۔ ہفتے کے تینوں ”دن“ یعنی جمعہ ،آچار (اتوار) اور سومار(پیر)نامی کبوترے میرے سامنے کھڑے تھے،جبکہ سندر مزدوری کرنے شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔
کبوترہ کمیونٹی مذہب کے معاملے میں بھی کافی آزاد خیال واقع ہوئی ہے۔ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کے نام مسلمانوں والے بھی رکھ لیتے ہیں۔ جیسے بالم کبوترے کی بیوی کا نام روبینہ تھا جبکہ ان کے چھ بچوں میں منور، نیازی، عطائی، امینہ، نمکی اور رضوانہ شامل تھے۔ بالم نے بتایا کہ وہ بیمار رہتا ہے، اس لیے ہلکی پھلکی مزدوری کرسکتا ہے، جس سے دو تین سو روپے سے زیادہ دیہاڑی نہیں لگتی جبکہ اس کی بیوی روبینہ اور بچے دن بھر بھیک مانگ کر چار پانچ روپے لے آتے ہیں، جس سے ’گجارہ‘ ہوجاتا ہے۔
’ بالم !تمہارا یہ نام کس نے رکھا تھا؟‘
’ماہری اماں نے رکھا تھا۔ماہرہ باپ بولتا تھا کہ چھوکری پیدا کرلے۔ اماں کو پیدا ہوگیا میں۔۔۔ تو اس نے ماہرا نام بالم رکھ دیا اور باپو کو بولی: کھبردار! جو ماہرے چھورے کا نام بھی لیا۔ اس طرح بالم بچ گیا اور اب تھارے سامنڑیں سوال جباب کرتا کھڑا ہے‘۔
اس کے ساتھ سوال جواب کا مجھے مزید کوئی فائدہ نظر نہیں آیاکیوںکہ وہ اپنی کمیونٹی سے متعلق کچھ بتانے پر آمادہ نہ تھا۔ یہ معلومات مجھے بعد میں ٹنڈو جان محمد سے تعلق رکھنے والے ایک کبوترے ساون اور اس کی بیوی مَلکی سے ملی۔
مَلکی، دراصل اس لڑکی کے پورے نام’’ملکہ‘‘ کا مخفف تھا اور وہ واقعی اسمِ بامسمیٰ تھی، جس کے باعث اس کا شوہر ساون جب اس کے ساتھ کھڑا تھا تو چاروں طرف خزاں چھائی نظر آتی تھی۔
’ہاں تو ساون!یہ بتائو تم لوگوں میں واقعی ایسا کوئی سلسلہ ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے کچھ عرصے کے لیے کسی کے حوالے ہوجاتی ہے؟‘
میں نے سنگین نوعیت کے سوال کو ممکنہ حد تک نرم بناکر پوچھا۔
’ہاؤ سائیں!یہ ہوتا تھا، پر اب کم ہوتا ہے ایسا۔ پہلے کیا ہوتا تھا کہ ماہرے لوگوں میں عقل نہیں ہوتی تھی اور غریب بھی بہت ہوتے تھے۔ سست لوگ ہیں سائیں!مزدوری کرنے سے ان کو تپ چڑھتا ہے۔ اس لیے پھر مفت کے پیسے پکڑنے کے لیے چھوریاں دے دیتے تھے۔ اب بہت کم ہے یہ۔ یقین کرو، مجھے خود نئیں معلوم کہ کہاں کہاں ایسا ہوتا ہے‘۔
ساون اپنے سانولے چہرے پر مصنوعی اعتماد کا رنگ چڑھائے کھڑا تھا۔
’اچھا اب یہ کم ہوتا ہے؟۔ مجھے توکسی نے بتایا ہے کہ اب بھی ہوتاہے۔ خیر، تم یہ بتاؤ کہ ایسا کوئی سلسلہ پہلے کہاں ہوا ہے؟۔ کوئی ایک نام بتائو،جہاں کبوتری اس طرح موجود ہو‘۔
’بھوتار!یہ مجھ سے نئیں ہوگا‘۔
اب اس نے مستحکم لہجے میں انکار کردیا۔
’اچھا، بھیک سے گزارہ ہوجاتا ہے یا ادھر ادھر ہاتھ بھی مارلیتے ہو؟‘
’نہیں سائیں!۔اللہ کی قسم کبھی غلط کام نہیں کیا۔غریب ہیں ،پر اس طرح نہیں ہوگا ہم سے‘۔
’چلو، یہ بچوں کی مٹھائی کے لیے رکھ لو‘۔
میں نے اپنی جیب سے دو سبز نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں دبادیے جو اس نے فوراً جیب میں منتقل کرلیے ۔
’ایک نوٹ مجھے دے‘‘ملکی نے شوہر سے حصہ لینا چاہا،مگر ساون نے اسے ڈانٹ دیا کہ گھر چل کر لے لینا، ابھی روڈ پر حصہ داری مت کرو۔
اب ان دونوں کے رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی تھی۔
’ہاں تو ساون بھائی! کیا بتارہے تھے تم؟‘
’سائیں! میں بتارہا تھا کہ ہم لوگوں میں پہلے سے ہوتا ہے کہ چھوری بڑی ہوتی ہے تو دس بیس سال کے لیے کسی امیر، ساہوکار یا وڈیرے کے کہنے پر کام کاج کے لیے اس کے گھر میں بھیج دیتے ہیں ۔ وہ اگر سخی آدمی ہو تو چھوری کے ماں باپ کو 5،10 سال کی تنکھا(تنخواہ) پہلے سے دے دیتا ہے اور پھر وہ پیسے غریب لوگ دھندے یا کاروبار میں لگادیتے ہیں ۔ اوپر سے ہر مہینے تنکھا بھی ملتی ہے ،اس طرح گجارہ ہوجاتا ہے‘۔
’اچھا۔اس کی کوئی لکھا پڑھی یا رسم ہوتی ہے؟‘
’وہ سائیں!اپنی اپنی مرضی کی بات ہوتی ہے‘۔
’کیوں اپنڑیں مرجی کی وات ہوتی ہے؟۔رسم تو ہووے۔۔۔ جرور ہووے ہے‘ مَلکی نے مداخلت کرتے ہوئے شوہر کی تردید کی:
’چھوری نواں جوڑا پہنے لال سرخ اور’جے ور‘ بھی ملتے ہیں۔ چھوری کے ماں باپو اپنڑَیں گھر میں کھانڑاں پکاکے رِستہ داروں کو کھلاویں۔تم بولو، یہ رسم نئیں ہے کیا؟‘
’ملکہ! تمہارے لیے کسی نے نہیں بولا تمہارے ماں باپ کو؟‘
میرے سوال پر مَلکی چپ چاپ کھڑی رہی۔ اس کی نظریں جھک گئی تھیں۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے، وہ ایک کند ذہن طالبہ کی طرح خاموش کھڑی رہی، جس سے ریاضی کا کوئی مشکل سوال کیا گیا ہو۔ اس کے شوہر ساون نے جواب دے کر اس کی مشکل آسان کی:
’اے ماہری منگ تھی سروع سے ہی۔ پر اِس کے باپونے ماہرے سے دھوکہ کیا۔ اس نے ملکی کے پیسے 30 ہجار روپے لے لیے ایک بندے سے‘۔
’تیرے باپ نے وی تو پنج ہجار کا حصہ لیا تھا۔اب چھوڑدے، ای وات نہ کر‘۔
مَلکی نے شوہر کو منع کیا کہ وہ اس موضوع پر گھر کی باتیں نہ بتائے مگر ساون پر اب سب کچھ بتانے کی دھن سوار ہوچکی تھی۔
’کیوں نہ وتاؤں؟ ایہہ دھوکہ نئیں تھا کہ میرے باپو نے جب کہا تھا کہ ملکی کا ہاتھ ساون کے ہاتھ میں دے دیو تو تھارے باپو نے کہا تھا کہ میں نے امرکوٹ میں ایک مسلمین وڈیرے سے تیس ہجار لے لیے ہیں۔ پر تم مجھے 20 ہجار دے دو تو میں ملکی کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ ملکی سے کل بھی تمہاری سگائی تھی اور وہ آج بھی ہے، بس تھوڑا صبر کرو۔ صاحب جی! میں پانچ سال تک پنچایت میں ہنگامہ کرتا رہا لیکن سر پنج کی ان کی طرف ہوگیا اور بولتا تھا کہ 20 ہجار دو اور ملکی کو اپنے پاس رکھ لو۔ اگر میرے پاس 20 ہجار ہوتے تو میں بھیک مانگتا پھرتا؟۔ پھر جب ملکی چلی گئی تو میں بہانے بہانے سے بھیک مانگتا ہوا امرکوٹ چلا جاتا تھا۔ وڈیرہ مجھے گلی میں بھی نہیں آنے دیتا تھا۔ ایک بار میں اس کی بیٹھک تک جا پہنچا اور پائوں پر گر کر منت سماجت کرنے لگا۔ مگر اس نے مجھے بہت گالیاں دیں اور اپنے گھر لے جا کر ملکی کے سامنے کھڑا کرکے کہاکہ اس رانی کو دیکھ اور خود کو دیکھ! کیا تم اس کے لائق ہو؟۔ اس نے مجھے بہت مارا اور کہاکہ اگر پانچ سال سے پہلے تم یہاں آئے تو قتل کرادوں گا۔ ایک بار تو اس نے میرے پیچھے اپنا سِکاری کتا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد میں کبھی امرکوٹ نہیں گیا اور جب ملکی کی مدت پوری ہوئی تو یہ اماں ابا کے پاس لوٹ آئی اور ہماری سادی ہوگئی۔ اب ہم لوگ کھُس باس ہیں‘۔
ساون نے قدیم قصے کی طرح اپنی کہانی کو ختم کیا۔ اس دوران مَلکی خاموش رہی تھی۔ اسے شک تھا کہ ساون گھر پہنچنے کے بعد اسے ایک روپیا بھی نہیں دے گا، اس لیے اس نے مجھ سے ڈائریکٹ ڈائلنگ کی:
’صاحب! مجھے بھی پانچ سورو پیادونا‘۔
اس کے اصرار سے زیادہ اس کا اظہارِ حسن مارے ڈالتا تھا مگر میں نے اپنے سفر کے خرچ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسےپانچ سو کے بجائے سو روپے کا نوٹ دیا، جس پر وہ ناک چڑھاتے ہوئے بولی:
’کبوترے کو ہجار روپے اور کبوتری کو صرف سو رُپّے؟ ۔ صاحب! تم بھی اور لوگوں کی طرح بے قدرے ہو‘۔
اصولی طور پر اس کی بات درست تھی!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













