افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے دہشتگرد حملوں میں 238 فیصد اور جانی نقصان میں 209 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور ساؤتھ ایرا ٹیررازم پورٹل سے لیے گئے ہیں۔ افغان طالبان کی 2021 میں کابل دوبارہ واپسی کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا آپشن لیا گیا۔ اس کا نتیجہ ٹی ٹی پی قیدیوں کی رہائی، ان کی نقل و حرکت کی آزادی کی صورت میں نکلا۔ مذاکرات کے وقفہ امن کو ٹی ٹی پی نے اپنی تنظیم نو کے لیے استعمال کیا۔
پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف مذاکرات اور آپریشن کی دو قسم کی حکمت عملی ہی آزمائی ہے۔ ملٹری آپریشن سے حاصل کامیابیاں محدود نوعیت کی رہی ہیں، جبکہ مذاکرات بار بار ناکام ہی ہوئے ہیں۔ پاکستان پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی پریشر بھی آتا ہے، یہ پریشر تو آتا ہے لیکن اس حوالے سے تعاون بھی محدود ہی رہتا ہے، امریکا اور اتحادیوں کی افغانستان سے واپسی کا نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح تنظیموں کو جدید اسلحہ اور آلات تک رسائی بھی مل گئی۔
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہی مذہبی فکر دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں۔ نظریاتی بنیادوں پر دونوں کے خیالات بہت ملتے ہیں۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں نظریاتی اشتراک اور عسکری تعاون، سہولت کاری کے علاوہ بھی ایک رخ ہے۔ افغان طالبان نے امریکا اور اتحادیوں کے خلاف جنگ میں افغانوں کو غدار اور بکاؤ ضرور کہا ہے لیکن ان پر کفر کے فتوے نہیں لگائے۔ ٹی ٹی پی پاکستان میں اعلانیہ کفر کے فتوے لگاتی ہے۔ افغان طالبان میں اپنے کلچر اور ملک پر فخر کا اظہار صاف محسوس ہوتا رہا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کلچر میں ایسا نہیں، یہ ملک کے خلاف شدت سے سامنے آتے ہیں۔
ٹی ٹی پی پاکستانی فوج، سیکیورٹی اداروں، سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کو مرتد کہہ کر انہیں نشانہ بناتی آئی ہے۔ افغان طالبان اسلامی بنیادوں پر افغانوں کو مرتد کہنے کی حد تک کبھی نہیں گئے۔ افغان طالبان نے جمہوری نظام کو اپنا رول ماڈل کبھی نہیں مانا البتہ وہ جمہوری نظام کے خلاف ٹی ٹی پی والا مؤقف بھی نہیں اپناتے، ٹی ٹی پی جمہورت کو نظام کفر کہتی ہے۔
افغان طالبان کابل واپسی سے پہلے اور بعد میں کہتے آئے ہیں کہ ان کا نہ تو افغان سرزمین سے باہر کوئی مشن ہے، نہ وہ اپنا شرعی ماڈل ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ٹی ٹی پی نے طالبان امیر ملا ہبت اللہ کی بیعت کر رکھی ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کے گارنٹی دے رکھی ہے کہ ان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ ٹی ٹی پی طالبان امیر کی اطاعت بھی کرتی ہے اور پاکستان پر حملے بھی کررہی ہے۔
افغانستان میں موجود ان مسلح گروپوں نے پاک افغان تعلقات کو کشیدگی کی اس انتہا تک پہنچا دیا ہے کہ دونوں ملک باڈر بند کرکے بیٹھے ہیں۔ دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے دوران افغان طالبان کا مؤقف ان کے عوامی مؤقف کے برعکس عاجزی اور بے بسی کا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے خلاف کارروائی کی سکت نہیں رکھتے۔ ٹی ٹی پی کے خلاف افغان طالبان کے ایکشن نہ لینے کی وجوہات نظریاتی تعلق سے ہٹ کر بھی ہیں۔
افغان طالبان کو خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی کسی کارروائی کے نتیجے میں داعش کے ساتھ مل سکتی ہے۔ ایسا نہ بھی ہوا تو ٹی ٹی پی کو آپریشن کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ افغان طالبان کی فائٹ فورس ٹی ٹی پی کی حمایت میں وفاداری تبدیل کر سکتی ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں افغانستان پر ایک اجلاس میں بتا چکے ہیں کہ دونوں ملکوں میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں 70 فیصد تک افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
ٹی ٹی پی کی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے سیکیورٹی آپریشنز کا نتیجہ بھی صورتحال کو پیچیدہ کر دیتا ہے۔ لوگ بے گھر ہوتے ہیں، ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت مخالف جذبات پیدا ہونا فطری ہے۔ ان جذبات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ریاست کے خلاف سکور سیٹل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا جہاں ٹی ٹی پی کا زیادہ زور ہے وہاں کی پی ٹی آئی کی تیسری صوبائی حکومت چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کے بجائے مذاکرات کی حامی ہے۔ حکومتی سطح پر یہ دو عملی اور تقسیم بھی نتائج کے حصول میں رکاوٹ ہے۔
ٹی ٹی پی نے اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی تبدیل کرتے ہوئے پختون ایشوز صوبائیت اور نسلی لسانی تعصبات کو بھی استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ سوچ سمجھ کر پی ٹی آئی کے سیاسی مؤقف کے ساتھ بھی الائنمنٹ بنائی اور دکھائی جاتی ہے۔ افغان طالبان کو بھی پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں یہ فائدہ ہوا ہے کہ ان کو افغانستان کے قومت پرست حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ پاکستانی ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ مشکل اور پیچیدہ حالات میں لڑ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا جہاں دہشتگردی کا مسئلہ شدید ہے وہاں کی حکومت ریاستی پوزیشن کے مخالف سمت کھڑی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ سیاسی تقسیم، پرانے قوانین اور گھسے پٹے پرانے انتظامی حربوں سے لڑی جا رہی ہے۔
عدالتوں سے دہشتگردوں کو سزاؤں کا عمل بہت سست ہے۔ نتیجہ مسنگ پرسنز کے زیادہ ہولناک مسئلے کی صورت برآمد ہوا۔ اس لڑائی میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی حکومت کی طرف سے مؤثر انداز میں نہیں ہو رہا۔ ان سب مشکلات کے باوجود دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ جیتنی ریاست کی مجبوری ہے، کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ معیشت اور ترقی یہ جنگ جیتے بغیر اک خواب ہے، جسے حقیقت بنانا پڑے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













