اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے، جو اکتوبر کے عارضی جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔
حکام کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، فضائی حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید
حماس نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جرائم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔
Israeli strikes kill at least 37 Palestinians across Gaza in one of the deadliest attacks since October ceasefire, and Hamas warns of ‘serious consequences’ if Israel continues to commit crimes in Gaza
Live updates 👇 pic.twitter.com/LpZmPx061E
— TRT World Now (@TRTWorldNow) February 1, 2026
اس سے قبل اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن نے اب تک 10 ارب روپے کی امداد غزہ پہنچا دی گئی، ایئر مارشل (ر) ارشد ملک
اسرائیل نے ان حملوں کو اپنی ’قومی سلامتی اور میزائل حملوں کے ردعمل‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔














