امریکا کی وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ دستاویزات میں ایک ای میل میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ نئی دہلی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق، ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل میں نریندر مودی کے 2017 کے اسرائیل کے سرکاری دورے کا ذکر کیا گیا ہے، جو کسی بھی بھارتی وزیرِاعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ ای میل میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ مودی نے اس دورے کے دوران ایپسٹین کے مشورے پر عمل کیا، تاہم بھارتی حکام نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ ای میل میں صرف ایک بات درست ہے اور وہ نریندر مودی کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ہے، جبکہ باقی تمام دعوے گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سزا یافتہ مجرم کی من گھڑت باتیں ہیں اور نریندر مودی اور جیفری ایپسٹین کے درمیان کسی قسم کے رابطے یا مشاورتی کردار کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو بنیاد بنا کر حکومت سے وضاحت کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے وزیرِاعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کسی بھی ممکنہ تعلق کو قومی شرمندگی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین فائلز کی مزید کھیپ جاری: یہ کونسی معلومات ہیں، اہم شخصیات کے اوسان کیوں خطا ہیں؟
کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین نے اپنی ای میل میں لکھا کہ مودی نے اسرائیل کے دورے سے قبل اس کے مشورے لیے اور یہ ای میل دورے کے تین دن بعد لکھی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قومی وقار اور عالمی ساکھ سے جڑا ہے، اس لیے وزیرِاعظم کو وضاحت دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2019 میں نیویارک کی جیل میں خودکشی کی، جبکہ وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا کر رہا تھا۔ تازہ فائلز میں کئی عالمی شخصیات کے ناموں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔














