لیبر پارٹی کے رکن لارڈ پیٹر مینڈلسن نے لیبر پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے کیونکہ وہ جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باعث پارٹی کو ‘مزید شرمندگی’ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے۔
سابق کابینہ وزیر، جنہیں گزشتہ سال امریکا میں برطانوی سفیر کے عہدے سے ایپسٹین سے پرانے روابط کی وجہ سے برطرف کیا گیا تھا، جمعے کو امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والی نئی دستاویزات میں سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے 2003 اور 2004 کے دوران 3 علیحدہ علیحدہ 25 ہزار ڈالر کی ادائیگیوں کی صورت میں مجموعی طور پر 75 ہزار ڈالر لارڈ مینڈلسن کو ادا کیے۔
لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کو لکھے گئے اپنے خط میں لارڈ مینڈلسن نے کہا: ‘اس ہفتے کے آخر میں مجھے ایک بار پھر جیفری ایپسٹین کے گرد پیدا ہونے والے فطری غم و غصے سے جوڑا گیا ہے، جس پر مجھے افسوس اور ندامت ہے۔’
انہوں نے مزید کہا: ‘یہ الزامات، جنہیں میں جھوٹا سمجھتا ہوں، کہ اس نے 20 سال قبل مجھے مالی ادائیگیاں کیں، اور جن کا مجھے کوئی ریکارڈ یا یاد نہیں، مجھے خود ان کی تحقیقات کرنی ہوں گی۔’
‘ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرتے ہوئے میں لیبر پارٹی کو مزید شرمندگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے میں پارٹی کی رکنیت سے دستبردار ہو رہا ہوں۔’
یہ بھی پڑھیے: بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی لیکڈ ای میلز: 2018 میں عمران خان ’امن کے لیے بڑا خطرہ‘ قرار
لارڈ مینڈلسن نے کہا، ‘میں ان خواتین اور لڑکیوں سے ایک بار پھر معافی مانگنا چاہتا ہوں جن کی آوازیں بہت پہلے سنی جانی چاہئیں تھیں۔’
انہوں نے مزید کہا: ‘میں نے اپنی زندگی لیبر پارٹی کی اقدار اور کامیابی کے لیے وقف کی ہے، اور یہ فیصلہ کرتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ میں پارٹی کے بہترین مفاد میں کام کر رہا ہوں۔’
اس سے قبل اتوار کو لارڈ مینڈلسن نے کہا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ حال ہی میں جاری ہونے والی دستاویزات مستند ہیں یا نہیں۔ انہوں نے ایپسٹین کو جاننے پر ایک بار پھر افسوس کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے پر ‘غیر مشروط’ معافی مانگی۔
لیبر ایم پی گورڈن مککی نے بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو میں کہا کہ ایپسٹین کے متاثرین ان انکشافات پر ‘بجاطور پر شدید غصے میں ہوں گے’ اور لارڈ مینڈلسن نے پارٹی چھوڑ کر ‘درست قدم’ اٹھایا ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کے ترجمان نے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لارڈ مینڈلسن کو ‘خود استعفیٰ دینے کی اجازت دی’ جبکہ انہیں پارٹی سے نکال دینا چاہیے تھا۔ کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈیناک نے بھی ان کی رکنیت معطل کرنے اور تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین فائلز جاری، بل کلنٹن کا تفصیلی ذکر، ٹرمپ بارے محدود معلومات
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی نئی فائلوں میں بینک اسٹیٹمنٹس اور ای میلز شامل ہیں، جن میں مبینہ طور پر لارڈ مینڈلسن سے متعلق مالی لین دین، تصاویر اور پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا ذکر ہے۔ تاہم حکام کے مطابق فائلوں میں کسی کا نام یا تصویر ہونا بذاتِ خود کسی غلط کام کا ثبوت نہیں۔














