سعودی عرب میں تعینات ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے خطے میں ان قوتوں کی تعریف کی ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں علیرضا عنایتی نے کہا کہ ‘کچھ قوتیں خطے کو آگ میں جھونکنا، اس کی دولت ضائع کرنا، ترقی کے پہیے کو روکنا اور اس پر جنگ مسلط کرنا چاہتی ہیں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو حالات کو بگاڑنا، ممالک کے درمیان دراڑیں ڈالنا اور خطے کے اندر فتنہ و فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی ایران معاہدے میں چین کا کردار سراہتے ہیں، سعودی وزیر خارجہ
ایرانی اور سعودی پرچم ساتھ لگائے گئے پیغام میں انہوں نے کہا: ‘اور اسی ہمسائیگی میں کچھ سنجیدہ اور باوقار مؤقف بھی موجود ہیں جو ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں، مکالمے کی زبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور قابلِ نفرت لاپرواہی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں’۔
هناك من يريد اضرام النار في المنطقة وإهدار ثرواتها وإيقاف عجلة التنمية فيها و تحمیل الحرب علیها،
وهناك من يريد خلط الأوراق ودق الإسفين بين بلدانها وإثارة الفتنة فيها،
وهناك مواقف رصينة في الجوار ترفض أي عمل عدائي ضد ایران وتشجع لغة الحوار وعدم القبول بالتهور المقيت..
🇮🇷 و 🇸🇦— علي رضا عنایتي (@Ali_RezaEnayati) February 1, 2026
علیرضا عنایتی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ان خبروں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مملکت نے علاقائی تنازعات پر اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔
اتوار کے روز ایک سینیئر سعودی عہدیدار نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ ریاض امریکا اور ایران کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین کے استعمال کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ایران کے خلاف سعودی سرزمین استعمال نہیں ہونے دی جائے گی‘، سعودی عرب کا واضح مؤقف
ادھر ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اسی ہفتے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس مؤقف کا اعادہ کیا۔ سعودی ولی عہد نے ایران کی خودمختاری کے احترام اور علاقائی سلامتی و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے کی حمایت پر زور دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق اس رابطے میں ایران کی داخلی صورتحال اور تہران کے جوہری معاملے سے متعلق پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے ایران کی علاقائی سالمیت سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کے کردار کو سراہا۔














