آب گاہیں وہ قدرتی نظام ہیں جہاں نمی یا کھڑا پانی موجود ہو اور مخصوص پودے اور جانور پروان چڑھتے ہوں۔ دنیا کی تقریباً 9 فیصد زمین (63 ملین ہیکٹرز) آب گاہوں پر مشتمل ہے، جو سالانہ 3.4 بلین ڈالر کی ماحولیاتی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ آب گاہیں جنگلات کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں موجود ہالیجی جھیل اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ہالیجی جھیل: ایک تاریخی ورثہ
ٹھٹھہ کے قریب واقع ہالیجی جھیل نوآبادیاتی دور میں ایک گڑھے کو مصنوعی جھیل میں بدل کر بنائی گئی تھی۔ کبھی اس کا پانی نیلا اور شفاف ہوا کرتا تھا اور سرد ممالک خصوصاً سائبیریا سے آنے والے پرندے یہاں بسیرا کرتے تھے۔ اکتوبر سے فروری تک یہ جھیل پرندوں سے ڈھک جاتی تھی، اسی لیے اسے پروٹیکٹیڈ ایریا قرار دیا گیا۔
بحران کی جڑ: پانی کی کمی
وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ سندھ کے نگران سہیل کھوسہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور وسائل کی کمی نے جھیل کی حالت بگاڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی گنتی کی جاتی ہے، مگر خوراک اور صاف پانی کی کمی نے ان کی آمد کو محدود کر دیا ہے۔
ہالیجی جھیل کی زندگی بحال کرنے کی کنجی
گرین میڈیا انیشیٹو کی صدر اور معروف ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز کے مطابق آب گاہوں کی بقا کا دارومدار تازہ پانی کی مسلسل آمد پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہالیجی جھیل میں 2 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جائے تو اس کی زندگی لوٹ سکتی ہے۔ تازہ پانی نہ صرف آکسیجن کی مقدار بڑھائے گا بلکہ پرندوں اور مچھلیوں کی واپسی بھی ممکن ہوگی۔

ماحولیاتی خدمات اور معاشی قدر
ہالیجی جھیل کی سب سے بڑی خدمت گدلے پانی کو صاف کرنا ہے۔ کراچی کو سپلائی سے پہلے دریا کا پانی یہاں آکر شفاف ہو جاتا تھا۔ اگر اس عمل کو مصنوعی طور پر کیا جائے تو اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اسی طرح مچھلی کی وافر مقدار بھی کبھی یہاں کی پہچان تھی، مگر تازہ پانی کی کمی نے اس نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
ادارہ جاتی ذمہ داریاں
ایکو لوجسٹ اور ویٹ لینڈ پالیسی ساز رفیع الحق کا کہنا ہے کہ مختلف اداروں کی ذمہ داریاں بکھری ہوئی ہیں، کوئی پانی کی نکاسی کا ذمہ دار ہے تو کوئی جھیل کی صحت کا۔ اس عدم توازن نے قدرتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایکو سسٹم ملک کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے، مگر ہم قدرتی ذخائر کی حفاظت کے بجائے مصنوعی ذخیروں پر انحصار کر رہے ہیں جو ناانصافی ہے۔
عالمی تناظر
رامسار کنونشن کے تحت دنیا کے 172 ممالک آب گاہوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ کنونشن پانی کی حفاظت، خوراک کی سلامتی، آفات سے بچاؤ، حیاتیاتی تنوع، کاربن ذخیرہ، سیاحت اور تفریح جیسے پہلوؤں پر زور دیتا ہے۔ پاکستان میں 19 رامسار ویٹ لینڈز ہیں، جن میں سے 9 سندھ میں واقع ہیں، اور ہالیجی جھیل ان میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














