معاشی اصلاحات اور ترقیاتی تعاون پر وزیراعظم اور صدرعالمی بینک کا اتفاق

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز اسلام آباد میں عالمی بینک گروپ کے صدر اجے پال سنگھ بنگا سے ملاقات میں انہیں عالمی بینک کے صدر کی حیثیت سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہا۔

اجے پال سنگھ بنگا 4 روزہ اعلیٰ سطحی دورے پر پاکستان میں ہیں، جس کے دوران وہ مختلف سرکاری اور ثقافتی مقامات کا دورہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک پاکستان میں 10 سال میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کرے گا، وزیراعظم

ان کا دورہ یکم فروری سے شروع ہو کر 4 فروری تک جاری رہے گا۔ قیام کے دوران ان کی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

ملاقاتوں میں معاشی اصلاحات، ترقیاتی تعاون اور علاقائی منصوبوں پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عالمی بینک گروپ کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی ترقیاتی ترجیحات کی حمایت پر عالمی بینک کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے عالمی بینک گروپ کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی تعریف کرتے ہوئے اسے مشترکہ ترقیاتی اقدامات کا ایک مثالی نمونہ قرار دیا اور اجے بنگا کی قیادت میں عالمی بینک کے پاکستان کے لیے مؤثر ترقیاتی شراکت دار کے طور پر کردار کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی معاشی ترقی اور اصلاحات کے لیے عالمی بینک گروپ کی نمایاں معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پائیدار معاشی استحکام کے حصول کے لیے قومی ضروریات کے مطابق ایک جامع اور کثیرالجہتی اصلاحاتی پروگرام پر پوری طرح کاربند ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے انفرااسٹرکچر، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل ترقی، توانائی، انسانی وسائل، مالیاتی اصلاحات، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے فروغ میں عالمی بینک کی معاونت کو سراہا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستانی ٹیکس نظام کو ’بیہودہ‘ قرار دیکر اس میں اصلاحات کا مشورہ دے دیا

ملاقات میں وزیراعظم اور عالمی بینک کے صدر نے اس امر پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت طے شدہ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت اور بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور ملکی ترقی کے وژن سے ہم آہنگی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم نے روزگار پر مبنی معاشی نمو کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامع انتظامی اصلاحات کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے ذمہ قرضوں میں اضافے کی پیش گوئی کردی

اس موقع پر اجے پال سنگھ بنگا نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ون ورلڈ بینک گروپ‘ اقدام کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون اور نجی وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے ترقیاتی پروگراموں کو مؤثر اور پائیدار انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور آئندہ دہائی کے دوران دونوں فریق قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ایران کے خلاف بڑے امریکی آپریشن کی تیاری کا انکشاف، خطرات اور جوابی ردعمل کے امکانات بڑھ گئے

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟