ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کو جنسی مواد سے متعلق تنازعے کے بعد بڑا ریلیف مل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اوربچوں کی ڈیپ فیک تصاویر، گروک کے ’اسپائسی موڈ‘ پر پابندی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا نے گروک پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی ہے تاہم سروس کو سخت نگرانی اور شرائط کے تحت بحال کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا نے اتوار یکم فروری کو ایکس اے آئی کے مفت اے آئی اسسٹنٹ گروک پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا 3 ہفتے قبل گروک پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس کی وجہ اے آئی کے ذریعے فحش اور غیر اخلاقی مواد کی تیاری پر تشویش تھی۔
اس فیصلے کے بعد ملائیشیا اور فلپائن نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کے باعث گروک کی سروس معطل کر دی تھی۔
حکام کے مطابق گزشتہ ماہ اس پلیٹ فارم کو خواتین اور کم عمر بچوں کی غیر رضامندانہ اور جنسی نوعیت کی تصاویر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیے: غیراخلاقی تصویریں بنانے کا الزام، ملائشیا نے گروک چیٹ بوٹ تک رسائی بند کر دی
تاہم اب انڈونیشیا کی جانب سے گروک کی سروس اس وقت بحال کی گئی ہے جب ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی ایکس کارپوریشن نے مقامی قوانین پر عمل درآمد اور سروس میں بہتری کی یقین دہانی کرائی۔
انڈونیشیا کی وزارت مواصلات و ڈیجیٹل امور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گروک تک رسائی مشروط بنیادوں پر اور سخت نگرانی کے تحت بحال کی جا رہی ہے۔
وزارت کے سینیئر اہلکار الیگزینڈر صابر کے مطابق ایکس کارپوریشن کی جانب سے تحریری یقین دہانی کرائی گئی ہے جس میں سروس میں بہتری اور غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ
ان کا کہنا تھا کہ یہ یقین دہانی نگرانی کے عمل کا اختتام نہیں بلکہ جائزے کی بنیاد ہے۔
حکام کے مطابق ایکس نے چیٹ بوٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے متعدد تہہ در تہہ حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: گروک اے آئی تنقید کے نشانے پر، لوگ ناراض کیوں ہیں؟
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایشیائی ممالک کے علاوہ برطانیہ اور یورپ کے ریگولیٹرز نے بھی گروک کی جانب سے تیار کیے گئے غیر رضامندانہ جنسی مواد کی سخت مذمت کی تھی۔














