بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران اب تک 177 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 33 عام شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوگئے، تاہم اب زندگی معمول پر آرہی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فتنہ الہندوستان کے مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی
اب صوبے میں زمینی صورتحال حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے اور زندگی تقریباً معمول پر واپس آ چکی ہے۔ البتہ موبائل ڈیٹا سروسز جزوی طور پر متاثر ہیں اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں، بشمول قلات، خضدار، پنجگور، گوادر، نوشکی اور دالبندین میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ آپریشنز مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے تعاون سے کیے جا رہے ہیں، تاکہ شہری نقصان کے امکانات کم سے کم ہوں۔
حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ باقی ماندہ دہشتگردوں کا سراغ لگایا جائے گا تاکہ بلوچستان کے لوگ بلا خوف زندگی گزار سکیں۔
حکومت اور سیکیورٹی فورسز شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہیں۔
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائےگی اور انہی کی زبان میں جواب دیا جائےگا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہاکہ دہشتگردوں کے حوالے سے اگر مگر کی پالیسی کے بجائے انہیں صرف دہشتگرد کہا جائے۔













