ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی اسکول تعلیم کے اعتبار سے آسٹریلیا دنیا کا سب سے مہنگا ملک ہے جہاں خاندانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم پر بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں ہائی اسکول کی زیادہ لاگت کی بڑی وجہ پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کی بڑی تعداد ہے جہاں فیسیں سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وصول کی جاتی ہیں۔
سالانہ تعلیمی اخراجات
میل یوکے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں خاندان ایک بچے کی ہائی اسکول تعلیم پر سالانہ اوسطاً 4,957 ڈالر خرچ کرتے ہیں جو کہ 38 ترقی یافتہ ممالک کی اوسط 1,262 ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 4 گنا زیادہ ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں کا انتخاب کرنے والے والدین کو اس سے بھی کہیں زیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں بعض اسکولوں میں فیس 55 ہزار ڈالر سالانہ فی طالب علم تک جا پہنچتی ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں میں داخلوں کا رجحان
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلند اخراجات کے باوجود آسٹریلیا میں 40 فیصد سے زائد طلبہ پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں چلی کے بعد دوسرا بڑا تناسب ہے۔
مہنگی تعلیم بہتر نتائج کی ضمانت نہیں
آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ بعض پرائیویٹ اسکول سالانہ 55 ہزار ڈالر تک فیس وصول کرتے ہیں تاہم یہ بھاری رقم بہتر تعلیم کی ضمانت نہیں دیتی۔
مزید پڑھیے: پاکستان 7 سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی20 سیریز جیتنے میں کامیاب، اسپنرز نے بھی نیا ریکارڈ بنا دیا
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پرائمری اسکول سطح پر سماجی و معاشی پس منظر کو مدنظر رکھنے کے بعد سرکاری اسکولوں کی کارکردگی کیتھولک اسکولوں سے بہتر اور آزاد (انڈیپنڈنٹ) اسکولوں کے برابر رہی۔
سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں فرق
رپورٹ کے مطابق سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے درمیان بنیادی فرق بہتر سہولیات اور غیر نصابی سرگرمیوں کا ہے جو پرائیویٹ اسکول زیادہ فیسوں اور سرکاری فنڈنگ کی بدولت فراہم کرتے ہیں۔













