عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور پشاور سے 6 دہائیوں تک عملی طور پر سیاست میں سرگرم رہنے والے معروف سیاسی خاندان کے سربراہ حاجی غلام احمد بلور نے پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد آبائی شہر پشاور کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اسلام آباد منتقل ہو گئے۔
پیر کے روز غلام احمد بلور نے پشاور کینٹ کے علاقے میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع اپنا گھر ’بلور ہاؤس‘نئے مالک کے حوالے کرنے کے بعد اسلام آباد منتقل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے مستقبل کو کتنا خطرہ ہے؟
پشاور کے بلور خاندان کے سربراہ غلام احمد بلور نے پشاور میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز ’بلور ہاؤس‘ کو کچھ عرصہ پہلے فروخت کیا تھا، اور گزشتہ ہفتے پشاور میں الوداعی ملاقاتیں شروع کی تھیں، آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر اداسی لیے غلام احمد بلور نے اپنے آبائی شہر پشاور کو خیرباد کہہ کر مستقل طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
’عوامی نیشنل پارٹی سے وابستگی رہے گی‘
غلام احمد بلور نے پشاور سے مستقل منتقلی سے قبل گزشتہ ہفتے بلور ہاؤس میں الوداعی ملاقاتوں کے دوران پشاور کے صحافیوں کو بھی وقت دیا، اس موقع پر غلام بلور نے بتایا کیا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نہیں چھوڑ رہے بلکہ کارکن کی حیثیت سے ان کی سیاسی وابستگی رہے گی۔
Peshawar feels a little emptier today. When a leader like Ghulam Ahmed Bilour leaves the city he devoted his life to, it’s not just a departure — it’s a silence that speaks of sacrifices, courage, and unmatched love for the people. 💔 pic.twitter.com/FT443baKaz
— Aurangzeb Afridi (@AurangzebAfri12) February 2, 2026
’اب مزید پارلیمانی سیاست نہیں کروں گا، میری عمر اس کی اجازت نہیں دیتی، البتہ سیاست اور پارٹی سے وابستگی برقرار رہے گی۔‘
غلام احمد بلور نے گلے شکوے بھی کیے اور کہا کہ انہیں انتخابات میں ہرایا گیا۔ ’3 مرتبہ جیتنے کے باوجود بھی مجھے ہرایا گیا، میری عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا۔‘
پشاور چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
غلام احمد بلور نے تصدیق کی کہ وہ پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے ہیں، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی سے ان کی وابستگی برقرار رہے گی۔
’میں اب مزید پارلیمانی سیاست نہیں کروں گا، البتہ باچا خان کا سپاہی تھا، ہوں اور رہوں گا، تاحیات ورکر کے طور پر پارٹی میں رہوں گا۔‘
غلام احمد بلور نے پشاور چھوڑنے کے فیصلے کو انتہائی مشکل قرار دیا۔ ’کون چاہے گا کہ اپنا آبائی شہر چھوڑے، لیکن حالات نے مجبور کر دیا۔‘
مزید پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟
پشاور سے روانگی کے موقع پر غلام احمد بلور انتہائی مایوس دکھائی دیے، ان کا کہنا تھا کہ وہ 85 سال کی عمر میں بھی الیکشن جیتے، لیکن انہیں ہرایا گیا، انہوں نے پشاور سے اپنا تعلق برقرار رکھنے کی جذباتی دلیل دی۔ ’میں جارہا ہوں لیکن میرا پشاور سے ناتا قائم رہے گا، میں پشاور میں ہی دفن ہوں گا۔‘
ہارون بلور کے صاحبزادے دانیال بلور نے بتایا کہ غلام بلور نے یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔ خاندان کا 99 فیصد حصہ پہلے ہی پشاور سے منتقل ہو چکا تھا، اور الیاس بلور کی وفات کے بعد غلام بلور بھی اس فیصلے پر آمادہ ہوئے۔
مزید پڑھیں: ثمر بلور کی ن لیگ میں شمولیت پر ایمل ولی خان کا ردعمل: ’کوئی حیرت کی بات نہیں‘
دانیال کے مطابق بلور خاندان نے پشاور کو خود نہیں چھوڑا بلکہ حالات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا، حاجی غلام بلور کا پشاور چھوڑنے کا فیصلہ اچانک یا ایک دن میں نہیں ہوا، بلکہ اس میں کئی سال لگے۔ ان کے مطابق 2008 سے پشاور سے منتقلی کی بات چل رہی تھی۔
دانیال کے مطابق خاندان کو مسلسل دہشت گردی اور ناانصافیوں کا سامنا رہا، سب سے پہلے بشیر بلور کو خودکش حملے میں شہید کیا گیا، اس کے بعد ہارون بلور بھی انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔
ان حالات نے غلام بلور کو اندر سے توڑ دیا، ساتھ ہی ان پر مقدمات قائم کیے گئے، جائیداد پر قبضے کی کوششیں ہوئیں، اور عدالتی پیچیدگیوں میں الجھایا گیا، انتخابات میں بھی ان کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا، جس سے وہ شدید مایوس ہوئے۔
نواسے کی سیاست میں عدم دلچسپی
دانیال نے بتایا کہ غلام بلور کا اکلوتا بیٹا شبیر بلور سیاست کی نذر ہو گیا تھا، اور ان کا پوتا جو لندن سے تعلیم مکمل کر کے واپس آیا ہے، سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث پوتا اور دیگر اہل خانہ پہلے ہی اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے، پوتے نے ہی غلام بلور کو یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ غلام بلور کی 3 بیٹیاں بھی اسلام آباد یا بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
بڑھاپا، بیماری اور سکون کی تلاش
خاندان کے مطابق غلام بلور اب عمر رسیدہ اور بیمار ہیں اور سکون چاہتے ہیں، دانیال بلور کے مطابق وہ اب بھی سماجی تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پشاوریوں کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
’بلور ہاؤس نہیں، پشاور خالی ہو گیا‘
سینیئر صحافی شمیم شاہد نے غلام بلور کی روانگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف بلور ہاؤس نہیں بلکہ پورا پشاور خالی ہو گیا ہے، 6 دہائیوں سے سیاست میں سرگرم بلور خاندان کا یہاں کی سیاست میں منفرد مقام تھا، بلور ہاؤس میں نواز شریف، اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے اہم رہنما آچکے ہیں۔
کیا بلور خاندان کی سیاست کا باب بند ہو گیا؟
دانیال بلور نے واضح کیا کہ ان کے دادا اور والد کی سیاست کے بعد اگر حالات بہتر ہوئے تو وہ خود عوامی خدمت کے لیے میدان میں آئیں گے، ان کی والدہ ایم این اے ثمر ہارون بلور ن لیگ میں شامل ہوکر سیاست میں سرگرم ہیں۔
بلور خاندان: باجوڑ سے پشاور تک
غلام احمد بلور کا تعلق پشاور کے ایک بااثر اور قدیم تاجر و سیاسی خاندان سے ہے، بلور خاندان قبائلی ضلع باجوڑ سے پشاور منتقل ہوا، اور غلام احمد کے والد حاجی بلور دین نے تجارت اور سماجی خدمت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
بلور خاندان نے نہ صرف معیشت بلکہ خیبر پختونخوا اور قومی سیاست میں بھی اپنی شناخت قائم کی، غلام احمد بلور نے عملی سیاست کا آغاز محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابی مہم میں شرکت سے کیا، جب وہ ایوب خان کے مقابلے میں امیدوار تھیں۔
— Ghulam Ahmad Bilour (@GhulamABilour) July 18, 2025
1975 میں وہ نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں وہ 1988 سے 2013 کے دوران 6 مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جن میں سے 5 مرتبہ انہوں نے اُس وقت کے پشاور کے تاریخی حلقے این اے ون سے کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے وفاقی وزیر برائے ریلوے اور وزیر برائے بلدیات کے طور پر خدمات انجام دیں، وزارتِ ریلوے کے دوران انہیں انتظامی چیلنجز، کرپشن الزامات اور ادارے کے زوال پذیر ڈھانچے کا سامنا رہا، تاہم غلام بلور نے اکثر اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہ کر سیاسی دباؤ کا مقابلہ کیا۔
مزید پڑھیں:اے این پی رہنما سابق سینیٹر الیاس احمد بلور انتقال کرگئے
غلام احمد بلور کئی بار اپنی بے باکی اور متنازع بیانات کے باعث قومی و بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی بنے، 2012 میں گستاخانہ امریکی فلم Innocence of Muslims کے خلاف انہوں نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر مذکورہ فلمساز کے قتل پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا، جس پر انہیں شدید تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی طرح 2015 میں فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر بھی انہوں نے ایسا ہی سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔













