گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شکر پڑیاں کا مقام پیپر میلبری (جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردِعمل سامنے آیا، جہاں شہریوں نے ماحولیاتی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ عین چند ہفتوں کے بعد سوشل میڈیا پر اسلام آباد میوزیم کے قیام سے متعلق خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں، جس کی تعمیر کو بعض حلقوں کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے شکرپڑیاں میں اسلام آباد میوزیم کے قیام کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کو 8.33 ایکڑ زمین دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شکرپڑیاں کی حسین کنول جھیل کیوں کُملا گئی؟
عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالات کے بعد یہ جاننا ضروری ہو گیا ہے کہ یہ میوزیم کہاں تعمیر کیا جا رہا ہے، اس منصوبے کی اصل تفصیلات کیا ہیں اور کیا واقعی درختوں کی کٹائی کا تعلق میوزیم کی تعمیر سے ہے یا نہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پلاننگ، کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی زفر دیر کا کہنا تھا کہ میوزیمز کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کو حالیہ پیش رفت قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق نیچرل ہسٹری میوزیم کے لیے 5 ایکڑ اراضی سال 1988 میں ہی آفر کی جا چکی تھی اور اس مقصد کے لیے پلاننگ ونگ کی جانب سے کسی نئی زمین کی الاٹمنٹ نہیں کی گئی اور میوزیم کے لیے پہلے سے لوک ورثہ میں پلاٹ موجود ہے جس پر اب باقاعدہ میوزیم کا آغاز کیا جائے گا۔
اسی طرح ڈی جی پلاننگ نے واضح کیا کہ نیشنل میوزیم کے لیے 8.33 ایکڑ پر مشتمل زمین بھی سال 2005 میں باقاعدہ طور پر الاٹ کی جا چکی تھی، جبکہ حالیہ سرگرمیاں صرف زمین کے قبضے اور انتظامی معاملات کی تکمیل سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی نئی الاٹمنٹ سے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
زفر دیر کا کہنا تھا کہ بعض منصوبوں کو غلط تناظر میں پیش کیے جانے کے باعث عوام میں ابہام پیدا ہوا، حالانکہ ضروری امر یہ ہے کہ پہلے سے الاٹ شدہ زمینوں پر عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ اور ثقافت کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کی چیئرپرسن ایم این اے سیدہ نوشین افتخار کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے شکرپڑیاں میں اسلام آباد میوزیم کے قیام کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کو 8.33 ایکڑ زمین الاٹ کر رکھی ہے جبکہ زمین کا باضابطہ قبضہ لینے کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: درختوں سے محبت: نوجوان سماجی کارکن نے درخت سے 72 گھنٹے لپٹے رہ کر اپنا ہی ریکارڈ توڑدیا
دوسری جانب قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کو نیشنل میوزیم آف پاکستان کی تعمیر کے لیے مناسب فنڈز مختص کرے اور انہیں بروقت جاری کیا جائے۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ بروقت مالی معاونت سے منصوبے پر عملی کام تیز ہو گا اور وفاقی دارالحکومت میں قومی سطح کی ایک جدید میوزیم سہولت قائم کی جا سکے گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ورثے کے تحفظ اور فروغ سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور تہذیبی ورثہ محفوظ رہ سکے اور آنے والی نسلوں تک مؤثر انداز میں منتقل ہو۔













