چٹاگانگ پورٹ میں غیر معینہ مدت تک کام روکنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے بنگلہ دیش کے اہم سمندری راستے اور خطے کی تجارتی روانی پر اثرات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پورٹ پروٹیکشن اسٹرگل کونسل کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ 24 گھنٹے کی ہڑتال کے اختتام سے فوراً پہلے کیا گیا، جس کے بعد غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:طالب علم رہنما کے قتل کیخلاف احتجاج، چٹاگانگ میں عوامی لیگ کے سابق وزیر تعلیم کا گھر نذر آتش
ہڑتال کو چٹاگانگ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونٹی کونسل (SKOP) کی رسمی حمایت حاصل ہے، جس نے ہنگامی اجلاس میں اس پروگرام کی منظوری دی۔ ایس کے او پی کے رہنماؤں نے شپنگ منسٹری کے مشیر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) شخوات حسین، بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BIDA) کے ایگزیکٹو چیئرمین اشیق چوہدری اور چٹاگانگ پورٹ کے چیئرمین ایس ایم منیر الزمان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملازمین کی جانب سے احتجاج کا مرکز نیو مورنگ کنٹینر ٹرمینل (NCT) کی لیزنگ کا عمل ہے، جسے پورٹ کا ایک اہم اسٹریٹجک مقام قرار دیا گیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ لیزنگ سے قومی مفادات، ملازمتوں کی حفاظت اور پورٹ کے عمل میں شفافیت کو خطرہ لاحق ہے۔ یونین رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پورٹ حکام تحریک کو دبانے کے لیے لیبر رہنماؤں اور ملازمین کی بڑے پیمانے پر تبادلے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بنگلہ تجارت میں اہم پیشرفت: کراچی سے پہلا براہ راست کارگو جہاز چٹاگانگ پورٹ پر لنگر انداز
احتجاجی جلسوں میں سینیئر پورٹ اور سرمایہ کاری کے حکام پر بدعنوانی اور کمیشن کی بنیاد پر معاملات کرنے کے الزامات لگائے گئے اور ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پورٹ پروٹیکشن اسٹرگل کونسل کے کوآرڈینیٹر حمیون کبیر نے کہا کہ سات ماہ کی تحریک کے باوجود لیزنگ کے عمل کو روکا نہیں جا سکا، اس لیے کارکنان کے پاس غیر معینہ ہڑتال کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

چٹاگانگ پورٹ بنگلہ دیش کی زیادہ تر سمندری تجارت کو ہینڈل کرتا ہے، جس میں ایندھن، خوراک اور صنعتی خام مال کی درآمد شامل ہے۔ کسی بھی طویل ہڑتال سے سپلائی چین، برآمدات اور پڑوسی ممالک میں بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس پر پاکستان اور جنوبی ایشیا بھر میں توجہ دی جا رہی ہے۔ اب تک حکام نے اس تازہ صورتحال پر کوئی سرکاری جواب جاری نہیں کیا ہے۔














