موسم بہار کی آمد پر بسنت کا میلہ اور اس موقع پر پتنگ بازی لاہور کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ تاہم 2005 میں پنجاب حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی، جب متعدد حادثات میں لوگوں کے گلے کیمیکل ڈور سے کٹنے اور چھتوں سے گرنے سے اموات ہوئیں۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے یہ فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت پاکستان کامثبت، ترقی پسند اور ثقافتی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے، مریم نواز کی بسنت پریزنٹیشن
پابندی کے باوجود لوگ چھپ کر بسنت مناتے رہے، لیکن سرکاری سطح پر یہ تہوار 2007 کے بعد مکمل طور پر بند ہو گیا۔ اب 2026 میں مریم نواز شریف کی حکومت نے اسے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں حفاظتی اقدامات جیسے موٹر سائیکل پر پابندی، فری ٹرانسپورٹ، اور مخصوص چھتوں پر تقریبات شامل ہیں۔ یہ قدم لاہور کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جہاں توقع ہے کہ 8 لاکھ سے زائد لوگ شرکت کریں گے اور 20 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمیاں ہوں گی۔
Basant is loading! 🪁❤️ pic.twitter.com/J4DB5x2Qzf
— PMLN Lahore (@LahorePMLN) February 2, 2026
بسنت کا فیسٹیول لاہور میں 6 فروری سے شروع ہوگا، جہاں گڈے ڈور کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور شہری پتنگوں اور ڈوروں کی خریداری میں مصروف ہیں۔ لاہور خصوصاً اندرون شہر میں بسنت منانے کے لیے چھتوں کی بکنگ جاری ہے، جبکہ باربی کیو پارٹیوں اور میوزک کے اہتمام سے جشن کی رونق دوبالا ہو رہی ہے۔ شہر رنگ برنگی لائٹس، پتنگوں کی دکانوں اور عوامی جوش و خروش سے خوشگوار فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔
نواز شریف کی بسنت میں شرکت
بسنت کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نواز شریف کہاں بسنت منائیں گے۔ جاتی عمرہ ذرائع کے مطابق نواز شریف کا 6 فروری کو کہیں جانے کا کوئی حتمی پلان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، کیونکہ اسی دن جاتی عمرہ میں میلاد کی تقریب بھی ہے۔ تاہم امکان ہے کہ وہ 7 یا 8 فروری کو اندرون شہر جا کر بسنت میں شریک ہوں، خصوصاً حویلی آصف جاہ میں ہونے والی تقریب میں، جہاں وہ روایتی طور پر پتنگیں اڑائیں گے۔

یہ تقریبات پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے 18 سال بعد بسنت کی بحالی کا حصہ ہیں، جو شہر کی ثقافتی روایات کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ نواز شریف خاندان ہمیشہ سے بسنت کے شوقین رہا ہے اور ماضی میں بھی لاہور میں اس تہوار کو فروغ دیا گیا۔ 1990 اور 1997 کی دہائیوں میں نواز شریف نے بطور وزیراعظم لاہور میں بسنت کو سرکاری سرپرستی دی، اندرون شہر کی چھتوں پر پتنگ بازی کی اور عوام کے ساتھ جشن منایا۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت: لاہور میں ڈرون سے نگرانی، چھتوں کی رجسٹریشن اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہمیشہ بسنت کو لاہور کی روح سمجھتے رہے ہیں اور اس کی بحالی پر خوش ہیں۔ تاہم اس بار تقریبات میں حفاظت کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ماضی کے حادثات دہرائے نہ جائیں۔
Basant, Lahore and zinda Dil Lahori ❤️
A thread full of basant vids!! 🪁🪁 pic.twitter.com/7moxwQ2tcC— IqRa (@Lostsoul_iQu) February 3, 2026
پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ایس او پیز جاری کیے ہیں۔ اندرون شہر کی 6 خصوصی چھتوں پر وی آئی پی تقریبات ہوں گی، جہاں نواز شریف اور مریم نواز کی شرکت متوقع ہے۔ فری پبلک ٹرانسپورٹ، لائٹنگ اور سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، اور عوام میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔













