فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

بدھ 4 فروری 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بے نظیر بھٹو کی بھتیجی، مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب نے چند ہی دنوں میں ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

فاطمہ بھٹو اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح تخلیقی ذہن کی مالک  ہے۔ لڑکپن ہی میں اس کی انگریزی نظمیں شائع ہونے لگیں، ان کے 2 ناول اور 2 نان فکشن کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ایک نان فکشن  چند سال پہلے شائع ہوئی، جس میں اپنی پھوپھو بے نظیر بھٹو پر اپنے والد کے قتل کے حوالے سے الزامات بھی لگائے گئے۔

  فاطمہ کی نئی کتاب “Hour of the Wolf”البتہ ان کی نجی زندگی کا قصہ ہے۔ میڈیا سے دور، سختی سے پرائیویٹ رکھی گئی ان کی زندگی سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ بھٹو خاندان کی یہ شہزادی کس قیامت سے گزری؟ اسے کتنے بڑے المیے، ذہنی، جذباتی تکلیف اور بے پناہ کرب سے گزرنا پڑا۔

                                   شہزادی کا المیہ

  پروین شاکر کی ایک خوبصورت قدرے طویل نظم ہے، شہزادی کا المیہ۔ یہ بے نظیر بھٹو پر لکھی گئی تھی جس میں اقتدار ملنے کے بعد ان کے مجبوریاں، مسائل اور پارٹی رہنمائوں کی توقعات کی عکاسی ہوئی۔

   شاید اس نظم کی مناسبت سے ممتاز مفتی نے جب پروین شاکر کا خاکہ لکھا تو نام شہزادی رکھا۔ مفتی جی کے دیگر خاکوں کی طرح یہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ مفتی اس میں لکھتے ہیں،’پروین شاکر کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ نوازی گئی ہے۔جو نوازے جاتے ہیں ان پر اکلاپا مسلط کر دیا جاتا ہے، ذاتی خوشی چھین لی جاتی ہے۔ دکھ درد کی ایسی سرتیاں سمرتیاں لگا دی جاتی ہیں کہ وہ ہر لحظہ جھن جھن کرتی ہیں۔‘

 فاطمہ بھٹو کے حوالے سے بھی یہ بات فٹ آتی ہے۔ فاطمہ بھٹو بھی نوازی گئی۔ قدرت نے اسے ایک بڑے، نامور، سیاسی گھرانے میں پیدا کیا، جسے عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے۔ مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ خود فاطمہ  دلکش خدوخال کی مالک ایک باوقار پرجمال خاتون ۔ کولمبیا یونیورسٹی اور لندن سکول آف اورنٹیل سٹڈیز جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوئی۔ حساس، تخلیقی ذہن رکھنے والی۔ پراعتماد، مضبوط، طاقتور شخصیت کی حامل۔ سب دروازے جس کی پہلی دستک پر ہی کھل جائیں۔

   فاطمہ بھٹو کی زندگی میں ذاتی المیے بھی شدید آئے۔ تین سال کی عمر ماں باپ میں علیحدگی ہو گئی، وہ والد مرتضی بھٹو کے پاس رہیں۔ سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو نے انہیں پالا پوسا۔ صرف 14 برس کی عمر میں فاطمہ کے والد مرتضیٰ گھر کے سامنے ہی سفاکی سے قتل کر دیے گئے، آج تک قاتل نہ مل سکے۔ اس المیہ کو لے کر وہ پروان چڑھی۔ غنویٰ بھٹو میر مرتضیٰ کی دوسری بیوی تھیں، غنویٰ نے فاطمہ کو اپنی بیٹی کی طرح پالا پوسا۔ تاہم غنویٰ کی کنٹرولنگ اور سخت گیر شخصیت نے بھی فاطمہ بھٹو کے لیے کئی مسائل پیدا کیے۔

  فاطمہ غنویٰ کو اپنی ماں ہی سمجھتی ہے، اس کی حقیقی ماں والد کے مرڈر کے کئی سال بعد جب اسے لینے آئی تو فاطمہ نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میرے نزدیک غنویٰ بھٹو ہی ماں ہے۔ غنویٰ کے بطن سے مرتضیٰ بھٹو کا بیٹا ذوالفقار جونیئر ہے۔ فاطمہ کو اپنے چھوٹے بھائی سے بڑا پیار ہے۔ اپنی نئی کتاب میں فاطمہ نے اس کا تذکرہ کیا، مگر وہ اپنی والدہ غنویٰ بھٹو کی کنٹرولنگ شخصیت سے بھی شاکی ہیں۔

  کتاب میں فاطمہ نے چند ایک واقعات بھی بیان کیے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے ایک دن کہا کہ میں اب بڑی ہوگئی ہوں، میں اپنے مالی معاملات اور بنک اکاونٹس خود کیوں نہیں دیکھ سکتی؟ اس پرغنویٰ بھٹو سخت برہم ہوئیں، انہوں نے طعنہ دیا کہ تمہارے والد کے قتل کے بعد میں نے تمہاری جان بچائی، تمہارا خیال رکھا اور اس کا یہ صلہ تم دے رہی ہو۔ اس کے بعد انہوں نے غصے سے ایک گالی دی اور گھر چھوڑ جانے کی دھمکی دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔ فاطمہ بھٹو کہتی ہے، مجھے والد کے جانے کے بعد سب سے زیادہ خوف اپنی قریبی لوگوں کے چھوڑ جانے کا تھا، اس لیے جلدی سے معذرت کر لی اور کہا کہ مجھے اکاونٹس نہیں دیکھنے۔

                                 بھیڑیے کا وقت

   فاطمہ بھٹو کی کتاب کا نام کا لفظی معنی تو ’بھیڑیے کی گھڑی‘ بنتا ہے، مگر یہ دراصل ایک استعارہ، ایک اصطلاح ہے،  مراد صبح سے پہلے کا وہ وحشت ناک، سخت وقت جب انسان سب سے زیادہ کمزور اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔ مراد وہ وقت بھی لیا جا سکتا ہے جب آدھی رات کے بعد بھیڑیا یعنی شکاری متحرک ہوتا ہے اور شکار نیند یا تنہائی میں بے بس ہوتا ہے۔

فاطمہ بھٹو کی اس کتاب کا ایک اہم کردار ان کی پالتو کتیا کوکو (coco)ہے، فاطمہ کو جانوروں سے بہت پیار ہے، وہ کتے پالتی رہی مگر کوکو نے اس کی زندگی میں محبت کے رنگ بھر دیے اور جب وہ ایک بہت ہی تکلیف دہ، افسوسناک ریلیشن شپ سے گزر رہی تھی، جب اس کا اپنے اوپر اعتماد ہی ختم ہوگیا تھا، تب کوکو نے اپنی محبت سے فاطمہ میں جینے کا احساس پیدا کیا۔

  فاطمہ نے اپنی یادداشتوں پر مبنی یہ کتاب کورونا کے دنوں میں لکھنا شروع کی، پہلے وہ صرف پالتو کتیا کوکو کے حوالے سے لکھنا چاہتی تھی۔ ان کے ادبی ایجنٹ نے مسودہ دیکھ کر مشورہ دیا کہ اس میں اضافہ کریں۔ تب فاطمہ بھٹو نے سوچا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ اب بول ہی دیں۔ یہ کتاب دراصل اسی سچ کا بیان ہے۔

                                 کرب کے 11 سال

  دراصل فاطمہ بھٹو اپنی شادی سے پہلے 11 سال تک ایک مرد کے ساتھ محبت کے تعلق میں گرفتار رہیں۔ کتاب میں اس کا نام نہیں لکھا گیا، اسے ہر جگہ ’وہ آدمی‘ یعنی ’دا مین‘ لکھا گیا۔ 2011 میں فاطمہ کی نیویارک میں اس سے ملاقات ہوئی۔ فاطمہ کو اس کی پاورفل، سحرانگیز شخصیت میں دلکشی محسوس ہوئی۔

فاطمہ بھٹو نے لکھا، ’وہ ایسا تھا جیسا میں آج تک کسی سے نہیں ملی۔ بے باک، خود پر حد درجہ یقین رکھنے والا۔ خوبصورت، کھردرے نقوش والا، قدیم وضع قطع کا مردانہ وجاہت رکھنے والا… ایک آزاد روح ۔‘ دونوں قریب آگئے اور پھر 10 سال سے زیادہ عرصے تک وہ اسی گہرے تعلق میں رہے، جسے فاطمہ اب جھوٹے وعدوں، بے وفائی اور دھوکے سے لبریز زہریلا تعلق قرار دیتی ہے۔

  فاطمہ بھٹو کے مطابق ہم دونوں غیر شادی شدہ تھے، ’اس آدمی‘ کا کہنا تھا فاطمہ سے پہلے اسے کوئی عورت پسند نہیں آئی جس کے ساتھ زندگی گزاری جا سکے۔ فاطمہ بھٹو کے ساتھ البتہ وہ سیٹل لائف گزارنا چاہتا تھا، مگر اسے اس کے لیے وقت چاہیے تھا۔ فاطمہ بھٹو کے مطابق اس نے مختلف حیلوں، بہانوں اور جھوٹے وعدوں سے اسے لٹکائے رکھا۔ وہ اس تعلق کو خفیہ رکھتا، کبھی کسی دکاندار کے سامنے بھی فاطمہ کو اپنی بیوی، پارٹنر یا گرل فرینڈ تک نہ کہتا۔

  درحقیقت وہ شخص ایک نرگسیت پسند، نفسیاتی مریض تھا، جس نے فاطمہ بھٹو کو بڑی سختی سے کنٹرول کیے رکھا۔ فاطمہ اس کی شخصیت سے گویا ہپناٹائز ہوگئی تھی، وہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ نہ پائی۔ درحقیقت فاطمہ بھٹو اس تصور ہی سے خوفزدہ ہوجاتی کہ وہ آدمی اسے چھوڑ جائے گا۔ اس نے فاطمہ کو قدم قدم پر ایکسپلائٹ کیا۔ وہ جب جی چاہتا اس پر برس پڑتا، طنزیہ جملوں سے ہرٹ کرتا، کبھی بالکل ہی بولنا چھوڑ دیتا۔ بے رحمی سے نظرانداز کرتا۔ فاطمہ جب جھنجھلا کر کہتی کہ میں یہاں سے جا رہی ہوں تو وہ کہتا، اگر تم گئی تو اپنی زندگی میں کبھی مجھے نہیں دیکھ سکو گی۔ فاطمہ بھٹو سہم کر رک جاتی۔

 برطانوی اخبار گارڈین کو اپنی کتاب کے حوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے فاطمہ بھٹو نے بتایا،’میری ایک بری عادت یہ ہے کہ میں سوچتی ہوں میں کسی بھی چیز سے گزر سکتی ہوں۔مجھ میں تناؤ یا تکلیف برداشت کرنے کی بہت زیادہ ہمت ہے، اور میں نے بہت عرصے تک خود کو یہی بتایا تھا کہ یہ وہی چیز (برداشت) ہے۔‘ فاطمہ بھٹو اس شخص کے تذلیل آمیز، زہریلے رویے کی مختلف تاویلیں خود کو دیتی رہی، اسے رعایت دیتی رہی۔

   فاطمہ نے گارڈین کی رپورٹر کو بتایا،’میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی عورتوں کی کہانیاں پڑھی تھیں اور چیزیں دیکھی تھیں جنہیں مردوں نے خطرناک حالات میں ڈال دیا تھا۔ میں نے بس کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں بھی ان میں سے ایک ہوں کیونکہ یہ جسمانی تشدد نہیں تھا۔چنانچہ میں نے سوچا کہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا، کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ جبکہ یہ سب ہو رہا تھا، مسلسل ہو رہا تھا، اور میں نے اس کا ادراک نہیں کیا تھا۔میں نے اس کی وجہ سے خود کو زخمی محسوس کیا، لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ جو نقصان کرنا چاہتا تھا وہ مکمل تباہی تھی۔‘

  فاطمہ بھٹو نے اس تعلق کو اس قدر خفیہ رکھا کہ اپنے قریبی دوستوں تک کو نہیں بتایا، دراصل وہ شخص یہی چاہتا تھا کہ یہ ریلیشن کسی کے علم میں نہ آئے، اس نے چالاکی سے فاطمہ کو قائل کر لیا کہ ان کے رشتے کی انفرادیت یہی ہے کہ یہ صرف ان دو تک محدود ہے، دنیا میں کسی کو اس کا علم ہی نہ ہو۔

   2021 کے آخر میں جب فاطمہ بھٹو کی عمر 40 سال ہوئی تو ایک دن اس نے سوچا، اب بہت ہوگئی، آخر اسے ختم کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے وہ اسپین میں اپنے فرٹیلیٹی ایگز فریز کراچکی تھی تاکہ بعد میں بچہ پیدا ہوسکے۔ فاطمہ نے وہ تکلیف دہ ریلیشن ختم کیا۔ 2022 میں وہ اپنے موجودہ خاوند گراہم سے ملی، جس نے اس کی زندگی کو محبت سے بھر دیا۔ ایک نہایت سادہ تقریب میں دونوں کی شادی ہوئی اور اب وہ 2 بچوں ’میر‘ اور ’کیسپین‘ کی ماں ہے۔

  فاطمہ بھٹو کا ماں بننے کے حوالے سے کہنا ہے:جب میں نے پہلی بار اپنے بیٹے کو گود میں لیا، تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر کی وہ تمام کڑواہٹ دھل گئی ہے جو برسوں کے صدموں نے پیدا کی تھی۔ میں، جو کبھی یہ سوچتی تھی کہ شاید میں ایک اچھی ماں نہیں بن سکوں گی کیونکہ میرا اپنا بچپن اتنا بکھرا ہوا تھا، اب خود کو ایک نئی تخلیق کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ ممتا نے مجھے وہ قوت دی جو مجھے کسی سیاسی تقریر یا کتاب نے نہیں دی تھی۔ اب میں کسی کی بیٹی یا کسی کی بھانجی ہونے کے بجائے، صرف ایک ‘ماں’ تھی اور یہی میری سب سے بڑی پہچان بن گئی۔‘

   فاطمہ بھٹو کی کتاب پر ہر جگہ اس لئے بات ہو رہی ہے کہ اس نے نہایت بہادری سے یہ سب کچھ بیان کر دیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار میں تبصرہ نگار نے لکھا، ’پاکستان میں، جہاں بھٹو خاندان کو ‘دیومالائی’ حیثیت حاصل ہے، وہاں فاطمہ کا اپنی کمزوریوں کو اس طرح سرِ عام بیان کرنا ایک انقلاب سے کم نہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک بھٹو بھی ٹوٹ سکتا ہے، اور یہ کہ ٹوٹ کر دوبارہ جڑنا ہی اصل بہادری ہے۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp