حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاری کے لیے تمام وفاقی وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے سے متعلق منصوبوں پر مبنی اپنی تجاویز جمع کرائیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپی یونین، جو پاکستان کی بڑی برآمدی منڈی ہے، نے کاربن اخراج کی حد پوری نہ کرنے کی صورت میں پاکستانی مصنوعات پر پابندی کی وارننگ دی ہے۔
کراچی میں آئی بی اے کے سٹی کیمپس میں منعقدہ ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے آئی بی اے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کی ڈائریکٹر پروفیسر لبنیٰ ناز نے کہا کہ یورپی یونین نے جنوری 2026 میں پالیسی بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا پائیدار برآمدی ترقی اور زرمبادلہ بڑھانے کا عزم، حکومتی پالیسیوں کو سراہا
جس کے تحت اسٹیل، سیمنٹ، کھاد، ایلومینیم، بجلی اور ہائیڈروجن سمیت پاکستان کی برآمدی صنعتوں کو سالانہ 50 ٹن فی درآمد کنندہ کاربن اخراج کی حد میں لانا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی شرط آئندہ برسوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر پر بھی لاگو ہوئی تو پاکستان کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزارتِ خزانہ نے تمام وزارتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجٹ میں گرین اور ڈیزاسٹر نیوٹرل منصوبوں کی تفصیلات پیش کریں، جن میں اخراجات، آمدن اور فائنانسنگ کے ذرائع شامل ہوں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہدف، سیاسی عدم استحکام نے معاشی ترقی کو نقصان پہنچایا، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں محض 0.8 فیصد حصہ رکھتا ہے، تاہم یہ شرح سالانہ 2 فیصد بڑھ رہی ہے، جبکہ زراعت، صنعت، توانائی اور ٹرانسپورٹ بڑے اخراجی شعبے ہیں۔
خرم شہزاد کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب، جن سے ایک تہائی آبادی متاثر اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، نے حکومت کو ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 سال میں 20 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فائنانسنگ کا وعدہ کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 200 ملین ڈالر کی پہلی قسط جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش
اس کے علاوہ حکومت نے 300 ارب روپے کا بلا ضمانت زرعی فائنانسنگ پروگرام ’زرخیز‘ شروع کیا ہے، جس سے ساڑھے 7 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے جدید ڈیٹا کے لیے ایم آئی ایس سسٹم قائم کیا ہے، جبکہ سپارکو کا نظام گلیشیئر پگھلاؤ، بارشوں اور سیلاب سے متعلق ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، جس کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے فیصلے کیے جائیں گے۔
مباحثے میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، جبکہ مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کا کردار موسمیاتی منصوبوں میں تقریباً غائب ہے۔














