لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں، اور اس بار دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ لاہور میں پتنگوں اور ڈور کی قلت کے باعث کراچی سے بڑے پیمانے پر سامان منگوایا جا رہا ہے۔
لاہور میں 19 سال بعد بسنت کی مشروط اجازت (6 سے 8 فروری) ملنے پر شہر میں پتنگ بازی کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ طویل پابندی کے باعث مقامی سطح پر پتنگ سازی کی صنعت موجودہ طلب پوری نہیں کر پا رہی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کراچی سے پتنگوں کی بڑی کھیپ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے لاہور پہنچائی جا رہی ہیں۔ طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
کراچی کے ایک شہری اسد کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں موجود اپنے دوست کے لیے کراچی کے رینبو سینٹر میں ڈور خریدنے آئے ہیں۔ ان کے دوست نے ان سے ڈور کی فرمائش کی تھی جو لاہور میں نہیں مل رہی، اور اگر مل رہی ہے تو قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اسد نے بتایا کہ اب کراچی میں بھی مال کم ہو چکا ہے اور 25 ہزار روپے کی ڈور کے لیے انہوں نے 50 ہزار روپے ادا کیے۔
لاہور کے مقابلے میں پتنگ کے ریٹ کراچی میں کم ہیں، لیکن ڈیمانڈ کے مطابق پتنگیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ بعد ہمارا کاروبار چل رہا ہے، لیکن ہم اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھے۔ اگلے سال ہم تیاری کرکے بیٹھیں گے تاکہ زیادہ منافع کما سکیں۔













