کیا گولڈ مارکیٹ مزید کریش ہوسکتی ہے؟

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی منڈی میں حالیہ دنوں ایک غیر معمولی شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس اچانک گراوٹ نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام خریداروں کو بھی حیران کر دیا ہے، بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ تک منتقل ہوئے، جہاں فی تولہ سونا واضح طور پر سستا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا 2026 میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟

واضح رہے کہ 29 جنوری 2026 کو پاکستان میں فی تولہ گولڈ کی قیمت تقریباً 5 لاکھ 72 ہزار روپے تھی۔ 30 جنوری کو فی تولہ گولڈ کی قیمت میں 35 ہزار 500 روپے کی کمی ہوئی۔

31 جنوری کو پھر سے گولڈ کی قیمت میں 10 ہزار روپے کمی ہوئی، مسلسل کمی کے ساتھ 2 فروری کو فی تولہ گولڈ تقریباً 4 لاکھ 90 ہزار روپے پر آ گیا، جس کے بعد 3 فروری کو فی تولہ گولڈ کی قیمت 13 ہزار 700 روپے اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 4 ہزار روپے ہو گئی۔

اس ساری صورتحال میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا سونے کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے یا یہ مندی عارضی ثابت ہو گی؟ اور اب پھر گولڈ کی قیمت بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔

’اثر وقتی طور پر سونے کی قیمتوں پر پڑسکتا ہے‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق سونے کی طلب اس وقت عالمی منڈی میں مختلف اسباب کی بنا پر برقرار ہے، دنیا کے بڑے مرکزی بینک بتدریج امریکی ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں اور سونے کو ایک محفوظ ذریعۂ سرمایہ کاری کے طور پر اپنا رہے ہیں، جس میں چین اور بھارت پیش پیش ہیں۔

’آنے والے دنوں میں سونا ایک مضبوط اور مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت چین اور یورپ میں تعطیلات کا موسم جاری ہے، جس کا اثر وقتی طور پر سونے کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سونے کی صنعتی طلب بھی ایک اہم عنصر ہے، جو قیمتوں کو سہارا دیتی ہے۔ مجموعی طور پر آنے والے دنوں میں سونا ایک مضبوط اور مستحکم سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔

’بڑے ادارے سونے کی خریداری عارضی طور پر روک دیتے ہیں‘

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بڑے ادارے اپنی سرمایہ کاری کو منظم کرنے، ذخائر کا جائزہ لینے اور مالی توازن قائم کرنے کے لیے عارضی طور پر سونے کی خریداری روک دیتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں خریدار کم ہو جاتے ہیں اور قیمتوں میں وقتی کمی آتی ہے۔ ان کے مطابق نئے سال کے آغاز پر اس طرح کی عارضی اصلاح ایک فطری عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چاندی ’گولڈ مارکیٹ‘ کی جگہ لے سکتی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ایران سے متعلق کشیدگی، یورپ اور امریکا کے درمیان اختلافات، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام، غذائی تحفظ کے مسائل اور جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے عوامل سونے کی قیمت کو سہارا دے رہے ہیں۔

راجہ کامران کے مطابق حالیہ کمی دراصل ایک عارضی اصلاح ہے، کیونکہ مارکیٹ میں پوزیشن حد سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی اور بعض سرمایہ کار زیادہ قرض کے ذریعے سرمایہ کاری کر رہے تھے، جس کے باعث انہوں نے اپنی پوزیشنز کو متوازن کرنے کے لیے خریداری عارضی طور پر روک دی۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، عمارت کے ملبے سے 70 تولہ سونا برآمد، مالک کے حوالے کردیا گیا

تاہم ان کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمت کا مجموعی رجحان آئندہ دنوں میں بھی اوپر کی جانب ہی رہے گا، البتہ حد سے زیادہ تیزی کو روکنے کے لیے بعض اوقات مارکیٹ میں دانستہ وقفہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ اچانک مالی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔

سونے کی قیمتوں میں جو کمی دیکھی گئی، وہ دراصل ایک صحت مند اور ضروری اصلاح تھی

کراچی صرافہ مارکیٹ کے رکن عبداللہ چاند کے مطابق دسمبر سے جنوری تک سونے کی قیمتوں میں مسلسل اور یک طرفہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس دوران کسی نمایاں گراوٹ یا مندی کا رجحان سامنے نہیں آیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ ایک طویل عرصے تک صرف ایک ہی سمت میں حرکت کرے تو وہاں ایک صحت مند اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے، جس کی طلب مارکیٹ خود کرنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکارڈ اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوا؟

عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں جو کمی دیکھی گئی، وہ دراصل ایک صحت مند اور ضروری اصلاح تھی، جس کی مارکیٹ کو شدید ضرورت تھی، اور یہ اصلاح مختصر عرصے، یعنی دو سے تین دن میں واضح طور پر دیکھنے میں بھی آ گئی۔

’اس وقت سونے کی قیمتوں میں کسی بڑی یا طویل مدتی کمی کا امکان نظر نہیں آتا‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت سونے کی قیمتوں میں کسی بڑی یا طویل مدتی کمی کا امکان نظر نہیں آتا، کیونکہ عالمی سطح پر کوئی ایسی غیر متوقع خبر یا منفی پیش رفت سامنے نہیں آئی جو مارکیٹ کو نیچے کی جانب دھکیل سکے۔ موجودہ حالات میں مندی کے بجائے استحکام کا رجحان زیادہ غالب دکھائی دیتا ہے۔

عبداللہ چاند کے مطابق مجموعی تجزیے اور مارکیٹ کے موجودہ رویّے کو مدنظر رکھا جائے تو آئندہ عرصے میں سونے کی قیمتوں کے مزید بڑھنے کے امکانات موجود ہیں، اور اگر حالات اسی طرح رہے تو بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت چھ ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ