قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سربراہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ حکمران آخر کس بات سے خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پردہ دار خواتین اور بچوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ کے پر کاٹ دیے ہیں اور پارلیمنٹ کو مفلوج بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی دراصل پاکستان تحریکِ انصاف کی وجہ سے ہے، جبکہ تمام آئینی حقوق محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات اور احتجاج ایک ساتھ چل سکتے ہیں اور یہ جمہوری جدوجہد کا حصہ ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر وزیراعظم کو باقاعدہ خط بھی لکھا ہے۔
پوری قوم ہیجانی کیفیت میں مبتلا، لطیف کھوسہ
سینئر قانون دان لطیف کھوسہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس وقت ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے بھی اپنے والد کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ صحت پر کسی قسم کا کمپرومائز نہ کیا جائے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی کے علاج کے لیے 3 ڈاکٹروں کے نام تحریری طور پر فراہم کیے گئے تھے اور یہ نام باقاعدہ طور پر درج کروائے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ آج رجسٹرار سپریم کورٹ کو یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ چیف جسٹس نے آئین اور قانون کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ اور ذاتی معالج سے علاج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انصاف نہ ملا تو 8 فروری کو کبھی فراموش نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہم سے سوال کر رہی ہے کہ ووٹ دے کر بھی ان کے حق پر ڈاکہ کیوں ڈالنے دیا گیا، تاہم عوام کے حقوق واپس دلوا کر رہیں گے۔
بیرسٹر گوہر کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات
ادھر بیرسٹر گوہر نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دستخط شدہ یادداشت رجسٹرار کو پیش کی ہے، جو محض یاد دہانی کے لیے دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک بانی پی ٹی آئی سے نہ اہلِ خانہ، نہ وکلا اور نہ ہی کسی اور کی ملاقات ہو سکی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ فیملی ڈاکٹر سے ملاقات کروا دی جائے تاکہ اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت کو تسلی ہو سکے۔














