امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی انصاف کے اداروں کے خلاف ایک غیر معمولی اور سخت مہم کے تحت اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز اور عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ججوں اور پراسیکیوٹرز پر ایسی پابندیاں عائد کیں جو عام طور پر دہشتگردوں، منشیات فروشوں اور خطرناک مجرموں پر لگائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک ذمہ دار ریاستوں سے ہرجانے کے حقدار ہیں، عالمی عدالت انصاف کا اہم فیصلہ
رائٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف البانیز اور آئی سی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے بلکہ جنگی جرائم سے متعلق جاری تحقیقات بھی شدید متاثر ہوئیں۔
یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ تھے جس کا مقصد عالمی اداروں، اتحادیوں اور مخالفین کو امریکی پالیسی کے مطابق چلنے پر مجبور کرنا تھا۔
تحقیقات کے مطابق سال 2025 کے اوائل میں فرانچیسکا البانیز نے امریکا کی درجنوں بڑی کمپنیوں بشمول گوگل کی مالک الفابیٹ، ایمیزون، کیٹرپلر، شیوران، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، لاک ہیڈ مارٹن اور پالانٹیر کو خفیہ خطوط ارسال کیے تھے۔ ان خطوط میں خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں معاونت کے الزام میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔
ان خطوط پر امریکی کمپنیوں میں شدید تشویش پائی گئی اور کم از کم 2 کمپنیوں نے وائٹ ہاؤس سے رجوع کیا۔ اس کے باوجود کہ اقوام متحدہ نے البانیز کے سفارتی استثنیٰ (ڈپلومیٹک امیونٹی) کی تصدیق کی ٹرمپ انتظامیہ نے ان پر پابندیاں عائد کر دیں جن کی وجہ ’دھمکی آمیز خطوط لکھنا‘ اور آئی سی سی کو تحقیقات پر اکسانا قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیے: عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا
بعد ازاں ٹرمپ کے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت آئی سی سی کے 8 ججوں اور 3 پراسیکیوٹرز پر بھی پابندیاں لگائی گئیں۔ ان تمام افراد کو امریکی وزارتِ خزانہ کی اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ نیشنلز فہرست میں شامل کیا گیا، جہاں القاعدہ کے مشتبہ دہشتگرد، میکسیکن منشیات فروش اور شمالی کوریا کے اسلحہ ڈیلرز بھی شامل ہوتے ہیں۔
فرانچیسکا البانیز نے اٹلی کے شہر موڈینا میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ناانصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے صرف اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ میں انسانی حقوق پر کام کر رہی ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی قیادت اور امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف تحقیقات غیر قانونی اور بے بنیاد ہیں اور امریکا ایسی سیاسی و معاشی جنگ کو برداشت نہیں کرے گا۔ تاہم رائٹرز کے مطابق امریکی حکومت کے اندر ہی ان پابندیوں کی نوعیت اور وقت پر شدید اختلافات پائے گئے۔ 
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ مستقبل میں آئی سی سی، افغانستان یا دیگر مقامات پر امریکی فوجی کارروائیوں پر ٹرمپ یا ان کے قریبی اہلکاروں کے خلاف مقدمات قائم کر سکتی ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر عدالت کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔
پابندیوں کے فوری اثرات سامنے آئے۔ البانیز کے بینک اکاؤنٹس بند ہو گئے، کریڈٹ کارڈ منسوخ کر دیے گئے اور انہیں سفر کے لیے دوستوں کے کارڈ استعمال کرنا پڑے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث اقوامِ متحدہ نے ان اور ان کے خاندان کی حفاظت سخت کر دی۔ ان کے بچوں کی آزادانہ نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے ان اقدامات کو ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک اور خصوصی نمائندہ مارگریٹ سیٹرتھویٹ نے کہا کہ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ انسانی حقوق کے کام کو دہشتگردی کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک ذمہ دار ریاستوں سے ہرجانے کے حقدار ہیں، عالمی عدالت انصاف کا اہم فیصلہ
دوسری جانب آئی سی سی نے امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت دنیا بھر میں مظالم کا شکار افراد کو انصاف فراہم کرنے کا کام جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے سنہ 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ جاری کیے تھے، جن میں غزہ میں بطور ہتھیار بھوک کے استعمال کا الزام بھی شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیاں نہ صرف فلسطین اور افغانستان بلکہ یوکرین، روس اور دیگر خطوں سے متعلق جنگی جرائم کی تحقیقات کو بھی متاثر کر رہی ہیں جس سے عالمی انصاف کے نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی عدالت میں سکھوں کی دُہائی: بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اس کے باوجود فرانچیسکا البانیز اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا کام نہیں چھوڑوں گی کیوں کہ پیچھے ہٹنا کوئی آپشن نہیں۔














