کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پہلی مرتبہ درختوں کی باقاعدہ مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کے شہری علاقوں اور قدرتی جنگلات کو محفوظ بنانا اور شفاف تحفظی نظام قائم کرنا ہے۔
سی ڈی اے کے چیئرمین اور ممبر ماحولیات کی ہدایات پر انوائرنمنٹ وِنگ کی ٹیمیں، ماحولیاتی تحفظ کے عملے کے تعاون سے، ان تمام درختوں کو نمبر لگا کر ریکارڈ کر رہی ہیں جن کا تنا کم از کم آٹھ انچ قطر رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
یہ مردم شماری اسلام آباد کے تمام شہری سیکٹرز اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں کی جا رہی ہے۔
مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا مکمل احاطہ
سی ڈی اے حکام کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا کل رقبہ 15,782.74 ہیکٹر (تقریباً 39 ہزار ایکڑ) پر مشتمل ہے، جسے اس مردم شماری میں مکمل طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ جنگلات کے تحفظ کو مؤثر اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکے۔
درختوں کی کٹائی پر عوامی ردعمل کے بعد اقدام
یہ قدم حالیہ دنوں میں شکرپڑیاں، سیکٹر ایچ-8 اور پارک روڈ پر درختوں کی کٹائی پر عوامی اور ماحولیاتی حلقوں کے شدید ردعمل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارہ کہو میں سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضے کی ناکام کوشش نے بھی درختوں اور جنگلات کے تحفظ کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں پیپر ملبری کی جگہ کون سے پودے لگائے گئے ہیں؟
سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود کے تحفظ کے لیے 1905 میں تیار کیے گئے جی ٹی شیٹس مستند ریکارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو کسی بھی قسم کی تجاوزات کے خلاف قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
غیرقانونی کٹائی کی مؤثر نگرانی
درختوں کی مردم شماری کے بعد ہر درخت کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے درختوں کی کٹائی کے اجازت ناموں کی سخت نگرانی ممکن ہو سکے گی اور غیرقانونی اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے گی۔
سی ڈی اے کے مطابق یہ مردم شماری نہ صرف مارگلہ ہلز کے قانونی تحفظ کو مضبوط بنائے گی بلکہ اسلام آباد کی موسمیاتی مزاحمت (کلائمٹ ریزیلینس) اور ماحول دوست منصوبہ بندی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کا یہ اقدام پاکستان میں درختوں کی مردم شماری کے لیے ایک ادارہ جاتی ماڈل بن سکتا ہے، جسے دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔














