صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگرد واقعے پر عالمی برادری کی جانب سے یکجہتی کے اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد امام بارگاہ دھماکہ، تمام علما دہشتگردی کے خلاف متحد ہوگئے
صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والی ہمدردی اور حمایت نے مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور متاثرہ خاندانوں کو حوصلہ دیا ہے۔
ان کے مطابق یہ پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے پیچھے موجود پرتشدد نظریات کے خلاف جنگ ایک عالمی جدوجہد ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک اکیلے نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار پناہ، سہولت یا آزادی دی جاتی ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

آصف علی زرداری نے اس تناظر میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض ہمسایہ ممالک نے دہشتگرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی، جبکہ کچھ نے انہیں مالی، تکنیکی اور عسکری مدد بھی فراہم کی۔ ان کے مطابق یہی عوامل حالیہ برسوں میں خطے کی صورتحال کو متاثر کر رہے ہیں۔
صدر نے افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے ملتے جلتے یا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی میں بھارت ملوث، اسلام آباد دھماکے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری گرفتار کرلیا، وزیر داخلہ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان حکومت کی مدد کر رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
آخر میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کی حمایت اور ہمدردی پر شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی یکجہتی نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے، امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔














