پاکستان تحریک انصاف نے 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے لیے کئی مہینوں سے تیاری کی جا رہی تھی۔ کارکنان کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس احتجاج کی کامیابی کے حوالے سے دعوے بھی کیے جاتے رہے۔ تاہم دن بھر کی صورتحال نے یہ ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی کی توقعات کے مطابق احتجاج کسی بھی شکل میں نمایاں اثر نہیں ڈال سکا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس احتجاج کو اب کافی حد تک ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ناکام ہڑتال کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہوگا اور یہ بیانیہ پارٹی کے لیے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نصرت جاوید کا تجزیہ
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار نصرت جاوید کے مطابق نومبر 2024 میں جب بشریٰ بی بی ہجوم کے ساتھ اسلام آباد آئیں اور اس کے بعد جو کریک ڈاؤن ہوا، وہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے اب تک پی ٹی آئی وہ سیاسی مومینٹم دوبارہ حاصل نہیں کر سکی جو اس کے پاس پہلے موجود تھا۔ آج کی مجموعی صورتِ حال بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اس وقت مناسب سیاسی ماحول میسر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا
نصرت جاوید کے مطابق پی ٹی آئی کے ایم پی ایز بھی نہ تو سوشل میڈیا پر اور نہ ہی اپنے حلقوں میں کوئی خاص سرگرمی دکھاتے نظر آئے، کیونکہ کارکنان کو یہ خوف تھا کہ انہیں کہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ اس خوف سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ اپنے کارکنوں کو مکمل تحفظ کا احساس دلا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کارکن نہ تو پہلے کی طرح سڑکوں پر نکلے اور نہ ہی پہلے جیسا جذبہ دکھائی دیا کہ گرفتاری ہو بھی جائے تو اس کی پروا نہ کی جائے۔ اپنے حلقوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کے حامی نمایاں طور پر متحرک نظر نہیں آئے۔

نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ جہاں تک کسی سیاسی جماعت کا تعلق ہے تو ہر پارٹی پر اچھا اور برا وقت آتا رہتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جماعتیں دوبارہ کھڑی بھی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ پی ٹی آئی مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے، درست نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق 26 نومبر کا دھچکا ایسا تھا جس سے پارٹی آج تک سنبھل نہیں پائی۔ موجودہ حالات میں احتجاجی سیاست کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی اور فی الحال اس کے امکانات بھی کم دکھائی دیتے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کو اپنی حکمتِ عملی پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
احمد ولید کی رائے
سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا یہ بیانیہ کہ عوام ان کے ساتھ ہیں، اب کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح 8 فروری کو ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، مگر دن بھر کی صورتحال نے واضح کر دیا کہ پی ٹی آئی اس نوعیت کا احتجاج کرنے کی صلاحیت اب کھو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت فیصل مسجد کے باہر احتجاج
ان کے مطابق جس پیمانے اور شدت کے احتجاج کی توقع کی جا رہی تھی، ویسی کوئی فضا بنتی نظر نہیں آئی۔ اگر پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاجات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عوام آہستہ آہستہ احتجاجی سیاست سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
خاص طور پر ایسے موقع پر جب لاہور میں بسنت منائی جا رہی ہو اور اس سرگرمی پر نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کی نظریں مرکوز ہوں۔ ان کے مطابق اس تناظر میں دیکھا جائے تو خود پی ٹی آئی کے کارکنان، مرد، خواتین اور نوجوان بھی بسنت کی تقریبات سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے، جس کی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

ایسے میں کسی تہوار یا فیسٹیویٹی کے دوران زبردستی احتجاج کی کال دینا، مارکیٹیں اور سڑکیں بند کرنے کا دعویٰ کرنا عملی طور پر ناکام ثابت ہوا۔ احمد ولید کا کہنا ہے کہ اس ناکامی سے نہ صرف پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو دھچکا پہنچا ہے بلکہ پارٹی کے اس بیانیے کو بھی مزید نقصان پہنچے گا کہ عوام ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال اور کاشف الدین سید کا تجزیہ
سیاسی تجزیہ کار کاشف الدین سید کے مطابق خیبر پختونخوا، جسے پاکستان تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور جہاں پارٹی تیسری بار حکومت میں ہے، وہاں 8 فروری کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم امتحان تھا۔
ان کے مطابق اس احتجاج کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی، تاہم پشاور اور دیگر اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسے کسی بھی صورت کامیاب ہڑتال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پشاور میں وہ بازار جو عام طور پر اتوار کے روز بند رہتے ہیں، ان کے علاوہ بیشتر تجارتی مراکز کھلے رہے۔ قصہ خوانی بازار، اشرف روڈ، کوچی بازار اور دیگر ملحقہ مارکیٹوں میں دکانیں کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیں:8 فروری کو زبردست احتجاج ہوگا، پردہ دار خواتین اور بچوں پر ظلم ہو رہا ہے: محمود خان اچکزئی
کارخانو مارکیٹ جزوی طور پر بند رہی، جبکہ اتوار بازار مکمل طور پر کھلا رہا جہاں عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اسی طرح خیبر ضلع کے علاقے باڑہ، چارسدہ، مردان، نوشہرہ، سوات اور دیر کے مختلف علاقوں سے بھی یہی اطلاعات موصول ہوئیں کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ جسے پہیہ جام ہڑتال کہا گیا، اس کے باوجود دن بھر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ بعض اضلاع میں ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے ریلیوں اور جلوسوں کے اعلانات مختلف اوقات میں کیے گئے، جس سے پارٹی کے اندر ہم آہنگی کا فقدان بھی سامنے آیا۔
کاشف الدین سید کے مطابق کارکنان نے پارٹی قیادت اور ارکانِ پارلیمنٹ پر شدید مایوسی اور تنقید کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے معاملے پر قیادت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ پشاور میں ڈی چوک جانے کے نعرے ضرور لگے، تاہم قیادت کی جانب سے آشیانہ جیل کے باہر ۱۰ ہزار افراد جمع ہونے کی شرط برقرار رکھی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض علاقوں میں زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوششوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جن میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی دیکھی جا سکتی ہے۔
کاشف الدین سید کے مطابق مجموعی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں یہ حالت ہے تو دیگر صوبوں میں احتجاج کی شدت اس سے بھی کم ہوگی۔ ان کے بقول یہ ہڑتال ہرگز کامیاب نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ اسے جزوی کہا جا سکتا ہے، لیکن ایسی جزوی کامیابی بھی نہیں تھی جو پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت کا مظاہرہ بن سکے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال تحریکِ انصاف کے لیے ایک سنجیدہ اور تشویشناک لمحہ ہے، جس کے بعد پارٹی کو اپنی آئندہ حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔













