سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کی جانب سے بانی تحریک انصاف عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت کب سے ملنے والی ہے، طارق فضل چوہدری نے بتادیا
رکن قومی اسمبلی اور عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ کی درخواست پر حکومت کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے، لطیف کھوسہ کی جانب سے عمران خان سے فوری ملاقات کی اجازت کی استدعا پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ملاقات سے متعلق بھی فیصلہ کریں گے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان سے ملاقات کی فوری اجازت کی استدعا مسترد کر دی کل کے لیے نوٹسز جاری pic.twitter.com/taQlhRdbR7
— Bakhtawar khan (@Bakhtt_PTI) February 9, 2026
سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں پر 3 رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
اسی طرح شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے لیے بھی 3 رکنی بینچ بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہ ملی، بہنوں کی جیل کے قریب قرآن خوانی
عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔
بینچ نے قرار دیا کہ متعلقہ قانونی نکات پر مناسب فورم پر سماعت کی جا چکی ہے، جس کے باعث ضمانت کی درخواست مزید قابلِ سماعت نہیں رہی۔













