پاکستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔
راشد لطیف نے حال ہی میں تابش ہاشمی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی جہاں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کراچی میں سب لوگ ڈی ایچ اے میں منتقل ہو گئے ہیں تو ملیر جیسے علاقوں کے لوگ کہاں جائیں؟
راشد لطیف کراچی سے کیوں چلے گئے؟
میں کراچی کو یاد نہیں کرتا، راشد لطیف pic.twitter.com/qZJnQzoWvZ— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 8, 2026
سابق کپتان نے کراچی اور لاہور میں کرکٹ کے زوال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کراچی اور لاہور کو کرکٹ کی نرسریاں کہا جاتا تھا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ گراؤنڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں۔
راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گراؤنڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب فلیٹس تعمیر ہو گئے ہیں جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلنے کی جگہ ہی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان راشد لطیف نے عثمان طارق کی تصویر کے ساتھ غیر قانونی بولنگ کا قانون کیوں یاد دلایا؟
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے کوچز اور سابق کھلاڑیوں کو اکیڈمیز کھولنی پڑیں مگر اکیڈمیز میں محدود تعداد میں ہی کھلاڑیوں کو تربیت دی جا سکتی ہے۔
راشد لطیف نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک میں پاکستان کے سات کپتان گزرے ہیں مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گراؤنڈز بھی ختم ہو چکے ہیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کھلاڑی کہاں سے سامنے آئیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ تحقیق کرے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر کراچی سے کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔














