سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف اقبال کریم بھوئیاں نے بین الاقوامی جرائم کی ٹریبونل میں بیان دیا کہ فوج میں غیر قانونی ہلاکتوں کی روایت پہلے سے موجود تھی، اور بعد میں جبری گمشدگیاں نافذ کی گئیں۔
مزید پڑھیں:حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ
انہوں نے ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے قیام کی سخت تنقید کی اور کہا کہ فوجی تربیت یافتہ افسران شہریوں کو دشمن سمجھ کر کارروائیاں کرتے تھے، جبکہ ایمرجنسی رول اور سیاسی دباؤ نے غیر قانونی حراست اور ہلاکتوں کو معمول بنا دیا۔
بھوئیاں نے کہا کہ آرمی چیف بننے کے بعد انہوں نے غیر قانونی ہلاکتیں روکنے کی کوشش کی، اور RAB کے افسران کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی، لیکن مزاحمت کرنے والے پروفیشنل افسران کو عموماً حوصلہ شکنی یا اہم عہدوں سے ہٹایا گیا۔
مزید پڑھیں:اشولیا ہلاکتیں: سابق بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام کو سزائے موت
انہوں نے یہ بھی کہا کہ RAB میں بھیجے گئے افسر اکثر واپس آ کر سخت گیر قاتل بن جاتے ہیں، اور اس سے بنگلہ دیش آرمی کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔














