سابق قومی کرکٹر و چیف سلیکٹر توصیف احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین خلش کافی پرانی ہے، 1987 میں جب کرکٹ کے میدان میں ہم نے بھارت کو بھارت میں شکست دی تو ہم پر بوتلیں اور پھتر پھنکے گئے اور اس وقت ہمیں ہیلمٹ پہننا پڑے تھے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے توصیف احمد نے کہاکہ بھارتی کرکٹر ایسے نہیں تھے لیکن جب سے مودی سرکار وجود میں آئی ہے تب سے کھلاڑیوں کی جانب سے رویہ بہت بدل چکا اور ہماری کرکٹ کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت ٹی20 ورلڈ کپ میچ کھیلنے یا بائیکاٹ پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے
’ہم اپنی سیریز ملک میں نہیں کھیل پا رہے تھے، عوام کرکٹ دیکھنے کو ترس چکی تھی اس حساب تو ہماری کرکٹ کو ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن سہرا پی سی بی کو جاتا ہے جس نے کرکٹ کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا۔‘
توصیف احمد نے کہاکہ ہائبرڈ ماڈل بھی بھارت کی وجہ سے ہوا اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان نے ان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا، اور اس وجہ سے آئی سی سی کو بہت بڑے خسارے کا سامنا ہونے والا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میری رائے بھارت سے کھیلو اور انکو ہراؤ، پاکستان میں کرکٹ کو نقصان پہنچا ہے جس کے اثرات کرکٹ ٹیم پر پڑے ہیں بھارت کی ٹیم ہمارے مقابلے میں بہتر ٹیم ہے۔
’اگر بنگلہ دیش کے کھلاڑی کو بھارت میں جانے پر مار دینے، کاٹ دینے کی دھمکیاں مل رہی ہوں تو کون اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہاں کھیلنے جائے گا؟‘
توصیف احمد کے مطابق اگر دوسرے ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں تو ان سے میں یہ کہوں گا کہ ایسا وقت کسی پر بھی آسکتا ہے لیکن ہم نے انسانیت کے ناطے بنگلہ دیش کو سپورٹ کیا ہے، یہ محسن نقوی کے فیصلے ہیں جو بھارت کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایشیا کپ جیتنے کے بعد بھارتی کھلاڑیوں نے بدتمیزی کی، بیانات تو دیگر ممالک دے رہے ہیں لیکن اس معاملے پر ساتھ کسی نے نہیں دیا۔
انہوں نے کہاکہ کرکٹ میں سیاست کو لانا کرکٹ کی تباہی ہے، یہ پیسے کے زور پر یہ سب کر رہے ہیں لیکن ایک واحد پاکستان ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کھلاڑی آپس میں ہاتھ نہ ملائیں، ہم تو گلے ملتے تھے، ابھی حال ہی میں عرفان پٹھان پاکستانی کھلاڑیوں سے گلے ملا ہے۔
’ہمیں پتا ہے ان کی مجبوری ہے لیکن آپ پھر گلے نہ ملیں، لیکن آپ اس لیے گلے ملتے ہو کیوں کہ آپ کا انٹرسٹ ہے اور انٹرسٹ یہ ہے کہ اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلا تو انہیں اربوں روپے سے زیادہ کا نقصان ہوگا، انہیں پتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو منٹوں میں ترلوں پر آجاتے ہیں۔‘
پاکستان کی موجودہ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں شکستوں پر توصیف احمد کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کرکٹ میں سیاست ہوئی، ہماری بڑی ٹیموں کے ساتھ سیریز کم ہو گئی ہیں، ہمیں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ جیسی تیز پچوں پر زیادہ کھیلنے کی ضرورت ہے، گوروں نے اسپن کو کھیلنے کی اچھی پریکٹس کر لی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی کا ازالہ کیا جائے، محسن نقوی نے آئی سی سی کے سامنے شرط رکھ دی
توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ورلڈ کپ جیتنے کا بہترین موقع ہے، ہمارے پاس 4 بہترین اسپنرز ہیں جو سری لنکا کی کنڈیشن میں بہت کام آئیں گے، جس طرح بیٹنگ لائن نے آسٹریلیا کے خلاف کارکردگی دکھائی اگر ایسا ہی ہو جائے تو ہم کسی کو جیتنے نہیں دیں گے۔
’اگر پاکستان ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچتا ہے اور مقابلہ بھارت سے ہوا تو پاکستان نہیں کھیلے گا، لیکن یہ فیصلہ ہمارے بڑے کریں گے، بھارت کے خلاف میچ نہ کھلنے کے فیصلے سے یہ منہ کے بل گرے ہیں، یہ ورلڈ کپ صرف پاکستان اور انڈیا ہے، سب مل کر بیٹھے ہیں اس میچ کو کرانے کے لیے، کرکٹ میں بھارت کو ہم نے جس طرح ہرایا ہے اس کی گونج بھارت کو ساری عمر سنائی دیتی رہے گی۔‘














