وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے پولیس افسران، اہلکاروں اور شہریوں کے گھروں کا دورہ کیا۔
مزید پڑھیں: علما و مشائخ کونسل کی اسلام آباد خودکش حملے کی شدید مذمت، دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد پر زور
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی، جبکہ شہید جوانوں کے بچوں سے خصوصی ملاقات کرتے ہوئے ان سے پیار و شفقت کا اظہار بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہدا کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے اعلان کیاکہ مروجہ پالیسی کے تحت پولیس شہدا کے لواحقین کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور 2،2 سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی، جن میں ایک ملازمت محکمہ پولیس جبکہ دوسری کسی دوسرے سرکاری محکمے میں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے سریاب تھانے کو شہید اے ایس آئی محمود الرحمن کے نام سے منسوب کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے کہاکہ شہدا کے بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی، جبکہ شہدا کے لواحقین کو گھر کی تعمیر کے لیے 55 لاکھ روپے اور حسب ضرورت دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اور بلوچستان کے عوام شہدا کے خون کے قرض دار ہیں اور ہم اپنے شہدا کے لواحقین اور غازیوں کو کبھی لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے ایما پر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں ناکام ہوں گی اور شہدا کے مقدس خون کا حساب لیا جائے گا، دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ 31 جنوری کے دہشتگردی کے واقعات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور تحقیقاتی ٹیمیں 7 دن، 24 گھنٹے کام کررہی ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔














