پاکستان ایئر فورس مضبوط ترین فضائی قوت بننے کی راہ پر، 3 سال میں 32 اسٹیلتھ J-35 فائٹر طیارے شامل ہوں گے

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وائس چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے کہا ہے کہ پاکستان ایئر فورس نے ملکی فضائی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے جدید اسٹیلتھ فائٹر جیٹس J-35 کی شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وی نیوز کے پروگرام صحافت اور سیاست میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئندہ 2 سے 3 برسوں میں J-35 طیارے پاکستان ایئر فورس کے بیڑے میں شامل ہو سکتے ہیں، جن کی ابتدائی تعداد 20 سے 32 کے درمیان متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور عراق کی فضائیہ کا مشترکہ مشقوں اور تربیتی اقدامات پر اتفاق

’یہ طیارے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔‘

سابق وائس چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے کہاکہ J-35 جیسے جدید اسٹیلتھ طیارے پاکستان کے لیے ایک مضبوط اسٹریٹیجک پیغام ہیں۔ یہ طیارے گہری مار (ڈیپ پینیٹریشن)، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید ریڈار سسٹمز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی بدولت دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

’پاکستان ایئر فورس نے ہمیشہ دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اوفینسو صلاحیتوں کو بھی متوازن انداز میں فروغ دیا ہے‘

ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے واضح کیاکہ جدید جنگیں اب صرف روایتی فضائی یا زمینی محاذ تک محدود نہیں رہیں، بلکہ سائبر، اسپیس، معاشی اور نفسیاتی محاذ بھی جنگ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بین الاقوامی دفاعی صنعتی میلے میں شرکت، عسکری حکام سے ملاقاتیں

’پاکستان ایئر فورس نے ان بدلتے ہوئے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ملٹی ڈومین آپریشنز کی حکمت عملی اپنائی، جس میں سائبر فورس، اسپیس فورس، الیکٹرانک وارفیئر اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز کو ایک مربوط نظام کے تحت استعمال کیا گیا‘۔

ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے ملک میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دہشتگرد حملوں میں اضافہ ایک تشویشناک امر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کی شہادتیں ایک بڑا قومی سانحہ ہیں اور یہ صورتحال صرف اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹیجک صورتحال نے پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جدید دور میں دشمن روایتی جنگ کے بجائے پراکسیز، سائبر حملوں اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ریاستوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے ان خطرات کے پیش نظر نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ازسرِنو منظم کیا بلکہ مستقبل کی جنگوں کے لیے جامع منصوبہ بندی بھی کی۔

ایئر مارشل (ر) ارشد ملک کے مطابق 2019 کے بعد پاکستان ایئر فورس نے اپنی کمزوریوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا اور انڈیجنیائزیشن یعنی مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کو ترجیح دی۔

ان کے مطابق اگر کسی ملک کے پاس جدید سسٹمز کا مکمل کنٹرول نہ ہو تو وہ طویل المدتی دفاعی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان ایئر فورس نے اپنے سافٹ ویئر، ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور میزائل انٹیگریشن پر بھرپور توجہ دی۔

انہوں نے کہا کہ جے ایف 17 تھنڈر آج پاکستان ایئر فورس کا ایک مکمل طور پر کامبیٹ پروون طیارہ ہے، جس کے بلاک تھری ورژن میں جدید AESA ریڈار، بی وی آر میزائل، الیکٹرانک کاؤنٹر میئرز اور جدید نیٹ ورک انٹیگریشن شامل ہے۔

ان کے مطابق یہ طیارہ نہ صرف کم لاگت بلکہ مؤثر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔

ایئر مارشل (ر) ارشد ملک نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان ایئر فورس کی کامیابی کسی بیرونی ملک کی براہِ راست مدد کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سازوسامان مختلف ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے، لیکن اس کا مؤثر استعمال، انٹیگریشن اور اسٹریٹیجک اپروچ مکمل طور پر پاکستان ایئر فورس کی قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عکاس ہے۔

ان کے مطابق جدید ہتھیار محض خرید لینے سے افواج مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اصل طاقت درست حکمت عملی، تربیت اور فیصلہ سازی میں ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: چینی تھنک ٹینک نے بھارتی فضائیہ کا پاکستانی طیارے گرانے کے دعویٰ مسترد کردیا

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان ایئر فورس مستقبل میں بھی دفاعی تیاریوں کو مسلسل بہتر بناتی رہے گی۔ ان کے مطابق دشمن کی کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے پاکستان ایئر فورس نہ صرف دفاعی بلکہ اوفینسو سطح پر بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

ایئر مارشل (ر) ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس کی یہ پیش رفت نہ صرف ملکی دفاع کے لیے اہم ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ درست وژن، مستقل مزاجی اور مقامی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے ایک مضبوط اور خودمختار دفاعی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت سے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کا بھرپور ٹریننگ سیشن

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟