مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کو ابتدا میں سوالات کے جوابات دینے اور مختلف کاموں میں مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر اب ایک غیر متوقع رجحان سامنے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا لوگ تحمل سے سننا اور بیجا تنقید سے گریز مصنوعی ذہانت سے سیکھ سکتے ہیں؟
دنیا بھر میں بہت سے نوجوان ان اے آئی سسٹمز کو محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک ساتھی کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان آہستہ آہستہ اے آئی پر انحصار کی ایسی صورت اختیار کر رہا ہے جو روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ نوجوان آمنے سامنے میل جول کے بجائے ٹیکنالوجی کو ترجیح دے رہے ہیں بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ اے آئی کو جذباتی خلا پر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
متعدد نوجوان روزانہ گھنٹوں اے آئی پروگرامز سے گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف ہوم ورک یا معلومات تک محدود نہیں رہتی بلکہ جذباتی سہارا، حوصلہ افزائی اور سماجی رابطے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
بعض نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقیقی دوستوں کے مقابلے میں اے آئی سے زیادہ بات کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: پالتو جانوروں کو گھر پر اکیلا چھوڑنا دشوار، مصنوعی ذہانت نے یہ مشکل بھی حل کردی
اس رجحان کی کشش قابل فہم ہے۔ اے آئی نہ تو تنقید کرتا ہے، نہ بات کاٹتا ہے اور نہ ہی کبھی مصروف ہوتا ہے اس لیے جو نوجوان خود کو تنہا، نظر انداز شدہ یا سماجی دباؤ کا شکار محسوس کرتے ہیں ان کے لیے چیٹ بوٹ ایک محفوظ جگہ بن جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیاں ان سسٹمز کو اس انداز میں ڈیزائن کرتی ہیں کہ وہ فوری رد عمل دیں، دلچسپ اور ہمدردانہ گفتگو کریں جس سے یہ عادت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک عام سا تعلیمی سوال آہستہ آہستہ جذباتی اظہار میں بدل جاتا ہے۔
تاہم اس سہولت کی ایک قیمت بھی ہے۔ سنہ 2024 میں اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک سروے کے مطابق جب بچے انسانوں کے بجائے ٹیکنالوجی پر جذباتی انحصار کرنے لگتے ہیں تو اس کا اثر ان کی ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور حقیقی تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔
چونکہ چیٹ بوٹس حقیقی احساسات کے بغیر ہمدردی کی نقل کرتے ہیں اس لیے نوجوانوں کو ایک ایسی وابستگی کا احساس ملتا ہے جو باہمی سمجھ بوجھ پر مبنی نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں حقیقی انسانی رشتے مشکل یا کم پرکشش محسوس ہونے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہر معاملے میں مصنوعی ذہانت سے رجوع انسان کی ذہنی صلاحیت کس طرح متاثر کرتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کا حد سے زیادہ استعمال محض عادت نہیں رہتا۔ اس کی علامات میں دوستوں پر چیٹ بوٹس کو ترجیح دینا، استعمال کو گھر والوں سے چھپانا اور رسائی محدود ہونے پر بے چینی یا پریشانی شامل ہیں۔ یہ رویے نفسیات دانوں کے نزدیک مسئلہ بننے والے ٹیکنالوجی استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں جو حد سے زیادہ گیمنگ یا سوشل میڈیا کے استعمال سے مشابہ ہے۔
والدین اس مسئلے کی بروقت نشاندہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں اسکرین ٹائم محدود ہونے پر موڈ میں اچانک تبدیلی، آف لائن سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی اور رات گئے تک اے آئی کا استعمال شامل ہے۔
عموماً ٹیکنالوجی پر گفتگو حفاظت اور اسکرین ٹائم تک محدود رہتی ہے مگر اے آئی کے معاملے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نوجوان اسے کیوں اور کیسے استعمال کر رہے ہیں۔
بغیر تنقید کے مکالمہ شروع کرنا نوجوانوں کو اپنی عادات پر غور کرنے میں مدد دیتا ہے۔اے آئی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے توازن پیدا کرنا زیادہ مؤثر ہے اور یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مددگار استعمال اور انحصار میں کیا فرق ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 5 سال میں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ بھی آگے بڑھ جائے گی، ایلون مسک کا پیشگوئی
ماہرین واضح حدود اور معمولات مقرر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جیسے اسکرین فری اوقات، بالمشافہ میل جول کی حوصلہ افزائی اور ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا جو اسکرین سے وابستہ نہ ہوں۔

کچھ خاندان روزانہ اس بات پر بات کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے استعمال نے نوجوان کو کیسا محسوس کرایا نہ کہ صرف یہ کہ کتنا وقت استعمال ہوا۔ یہ سوچ مقدار کے بجائے معیار پر توجہ دیتی ہے جو جذباتی صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔
اس مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں۔ اے آئی اب ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک مفید ذریعہ بھی لیکن جب یہ حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ لینے لگے یا روزمرہ زندگی میں خلل ڈالے تو والدین اور سرپرستوں کو سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔
نوجوانوں کو اس نئے دور میں رہنمائی دینا صرف ڈیجیٹل قوانین کا معاملہ نہیں بلکہ جذباتی تربیت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ
اے آئی بذاتِ خود مسئلہ نہیں مگر شعور اور حدود کے بغیر یہ اس سہارا اور تعلق کا متبادل بن سکتا ہے جو صرف حقیقی انسانی رشتے ہی فراہم کر سکتے ہیں۔













