خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا، جہاں فتنہ الخوارج کے رکن زیبر المعروف سفیان کو فتنہ الخوارج کے ہی ایک کمانڈر نے قتل کردیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ، ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج کے ہاتھ لگ گیا
اس واقعے نے تنظیم کے اندر طاقت، علاقائی کنٹرول اور قیادت کے حوالے سے گہرے اندرونی اختلافات کو عیاں کردیا ہے۔
اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج میں مسلسل اندرونی جھگڑے پائے جاتے ہیں، جہاں مختلف دھڑے ایک دوسرے کے خلاف بے رحمی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں تاکہ بالادستی حاصل کی جا سکے۔
فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہ کسی مشترکہ نظم و ضبط یا اجتماعی مقصد کو نہیں مانتے اور صرف طاقت کو کنٹرول کے لیے واحد ذریعہ تسلیم کرتے ہیں۔
تحقیقات اور اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کے اراکین کی بقا زیادہ تر تاوان، بھتہ خوری، اغوا اور دیگر غیر قانونی آمدنی پر منحصر ہے، اور یہ حقیقت خود فتنہ الخوارج کی جانب سے بھی تسلیم کی جاتی ہے، جو تنظیم کے مجرمانہ طرز عمل کو ظاہر کرتی ہے، نہ کہ کسی نظریاتی وابستگی کو۔
فتنہ الخوارج کے اندر کوئی منظم کمانڈ سسٹم، اندرونی قوانین یا جوابدہی کا نظام موجود نہیں، اور یہ تنظیم دھونس، خوف اور تشدد کے ذریعے کام کرتی ہے۔ فیصلہ سازی کا عمل عقل یا مذہبی اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ لالچ، شک اور موقع پرستی سے متاثر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’فتنہ الخوارج مذہب کے نام پر نوجوانوں کو پاک فوج کے خلاف اکساتے ہیں‘، خارجی دہشتگرد کے انکشافات
مسلسل اپنے ہی اراکین کو وسائل، علاقہ اور مالی کنٹرول کے تنازع پر نشانہ بنانا اور قتل کرنا فتنہ الخوارج کو مربوط تحریک کے بجائے ایک منتشر مجرمانہ تنظیم کے طور پر پیش کرتا ہے۔














