نثار عثمانی اور محمد ضیاء الدین: پاکستانی صحافت کا وقار

بدھ 11 فروری 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ڈکٹیٹروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والے صحافی بہت کم رہے ہیں، ہاں البتہ ان کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد ’ڈنکے کی چوٹ پر‘ ان کی مخالفت کرنے کے بہت سے دعوے دار مارکیٹ میں آجاتے ہیں۔

یہ افراد اپنی مبینہ عزیمت کے خود آپ ہی راوی ہوتے ہیں جبکہ ڈکٹیٹروں کے حقیقی ناقدین کو سارا جگ جانتا ہے، اپنی قربانیوں کا انہیں اشتہار دینا نہیں پڑتا۔

پاکستانی صحافت میں اس سلسلے کی سب سے زندہ مثال غالباً مردِ قلندر نثار عثمانی کی ہے جنہوں نے بیماری کے ساتھ استقامت سے جیل کاٹی۔ سرسری سماعت کی فوجی عدالت میں ضیاء الحق کے بارے میں بیباک گفتگو کی وجہ سے ان کو دوسروں سے بڑھ کر سزا ملی۔

ضیاء الحق کے سامنے جس جرأت مندی سے وہ سوال اٹھاتے تھے، اس کے قصے ان سے نہیں بلکہ دوسرے قابلِ اعتبار لوگوں کے ذریعے سے ہم تک پہنچے ہیں۔

ادب میں اس کی گواہی ممتاز ادیب انتظار حسین نے اپنی کتاب ’جستجو کیا ہے؟‘ میں دی ہے تو معروف صحافیوں میں محمد ضیاء الدین اور علی احمد خان و دیگر  نے ان کی پامردی کا تذکرہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حادثے سے بڑا سانحہ

نامور صحافی کمال صدیقی کا تحریر کردہ محمد ضیاء الدین کا عمدہ پروفائل اس وقت میرے سامنے ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت سوال اٹھانے کے معاملے میں وہ نثار عثمانی کی روایت پر چلتے رہے۔

انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے آغاز سے انجام تک جس دلیری سے ان کے سامنے سوال اٹھائے، وہ پاکستان کی مزاحمتی صحافت کا روشن باب ہے۔ ان کے سوالوں سے جنرل مشرف کے زچ ہونے کی کہانی پاکستان سے برطانیہ تک پھیلی ہوئی تھی اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ مشرف نے لندن میں  ضیاء الدین  کے سوال پر  بھڑک کر ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا  اور تقریباً غدار ہی قرار دے ڈالا۔

اس کے بعد پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں یہ تک کہا کہ اگر آپ کو ضیاء الدین کہیں نظر آجائیں تو انہیں 2،3 ٹکا دیں۔ یہ ذہنی سطح تھی آزادی اظہار کے علمبردار ڈکٹیٹر کی۔

اس قضیے کے بارے میں بی بی سی اردو کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے:

’پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان کے لندن میں نامہ نگار ایم ضیاء الدین نے ان سے پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے سوال کیا تو صدر مشرف شدید برہم ہوگئے۔ جب ضیاء الدین نے پوچھا کہ جب راشد رؤف جیسا ایک مشتبہ ہائی پروفائل شدت پسند جو کہ برطانوی شہری تھا اور برطانیہ مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے اس کے حوالے کیا جائے، وہ دن دہاڑے بھاگ جاتا ہے تو لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ پاکستان میں یہ اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو بچا لے گا تو صدر مشرف نے سینیئر صحافی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اور پھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ آپ کی افواہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ آپ خفیہ اداروں پر الزامات لگا کر افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘

جنرل پرویز مشرف نے ضیاء صاحب کی بے باکی کے بعد ان سے ایک دفعہ پوچھا تھا کہ کیا آپ نے کبھی کسی اور لیڈر کے سامنے بھی اس تند لہجے میں گفتگو کرنے کی ’لبرٹی‘ لی ہے؟ ضیاء صاحب چاہتے تو ماضی میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اپنی گرما گرم بحثوں کی مثال دے سکتے تھے لیکن مہذب آدمی کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات کا حوالہ بیچ میں نہیں لاتا کہ ’ثنائے خود بخود کردن نہ زیبد مرد عاقل را‘ پر اس کا یقین  ہوتا ہے۔

سو انہوں نے اپنے صحافتی پرکھوں میں سے نثار عثمانی کے بارے میں جنرل مشرف کو بتایا کہ لاہور ایئر پورٹ پر انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے سامنے جلالی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس  کی ویڈیو کے کیسٹ بلیک میں فروخت ہوئے تھے۔ اسے جدید محاورے میں آپ وائرل ہونا کہہ سکتے ہیں۔

اس ویڈیو کے بارے میں ضیاء صاحب کا بیان پڑھ کر میرا ذہن معروف صحافی اور براڈکاسٹر علی احمد خان سے اس ویڈیو کے بارے میں سنی ایک حکایت کی طرف منتقل ہوا۔

بات کچھ یوں ہے کہ جس دن عثمانی صاحب نے جنرل ضیاء الحق کی کلاس لی، علی احمد خان کی کراچی میں پیر پگارا سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے چھوٹتے ہی کہا:

’ارے بھائی تمہارے صدر نے ہمارے صدر کو فلیٹ کردیا‘

علی احمد خان نے اس بیان کا پس منظر جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ  لاہور میں عثمانی صاحب نے آج ضیاء الحق کی بولتی بند کر دی ہے اور یہ بات کُو بہ کُو پھیل گئی ہے۔ ‘تمہارے صدر‘ سے مراد عثمانی صاحب کے پی ایف یو جے کا صدر ہونے کی طرف اشارہ تھا۔

عثمانی صاحب نے سیاسی اور مذہبی امور میں جنرل ضیاء کی ڈکٹیشن ماننے سے انکار کیا تھا۔

مزید پڑھیے: کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

کیسے اچھے زمانے تھے جب صحافی اپنے حقوق کی جنگ نثار عثمانی اور منہاج برنا کے سنگ لڑتے تھے۔ اس میں انہیں مات بھی ہوتی تھی تو سربلند رہتے تھے۔

اب صحافتی تنظیموں کی زمام کار جن کے ہاتھوں میں ہے، ان کے معاملات اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ کراچی پریس کلب جو کبھی مزاحمت کی سپاہ کا رجز گزار تھا، وہ بھی دوسرے پریس کلبوں کی طرح راکھ کا ڈھیر ہے۔ اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کا دھاوا اور صحافیوں کی بے بسی تو کل کی بات ہے۔

صحافتی آزادیوں کو کچلنے کے لیے قوانین آتے رہتے ہیں اور صحافتی تنظیمیں ’پھوکے‘ سے احتجاج تک محدود رہتی ہیں۔

کمال صدیقی کے پروفائل کے بعد نثار عثمانی کو  یاد کرنے کا ایک بہانہ کراچی کے معروف جریدے ’ارتقاء‘ کا ایک پرانا پرچہ بھی ٹھہرا ہے۔

اس  میں 8 جولائی 1994 کو ارتقاء انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسزکے زیر اہتمام، ذرائع ابلاغ کی سماجی ذمہ داریوں کے موضوع پر سیمینار کی روداد شائع ہوئی تھی۔

اس سیمینار میں نثار عثمانی کی تقریر کو معروف صحافی حسن عابدی نے رپورٹ کیا، اس  کے حسبِ حال مندرجات کی طرف آنے سے پہلے عابدی صاحب کا یہ شعر سن لیجیے :

کچھ عجب بُوئے نفس آتی ہے دیواروں سے

ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے

 اب نثار عثمانی صاحب کی تقریر کی طرف آجاتے ہیں۔ اس میں صحافت کی جس ابتر صورتحال پر تبصرہ  ہے، وہ 32 سال بعد جوں کی توں نہیں بلکہ زیادہ دِگرگوں ہے۔ صحافیوں میں مطالعے کی کمی کی بات وہ کرتے ہیں جو خیر سے اب پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ان کی دانست میں آزادی صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: منٹو کا ہم راہی

’انہوں نے کہا‘ اور ’انہوں نے مزید کہا‘ ٹائپ کی صحافت پر وہ گرفت  کرتے ہیں جو اخبارات کی 90 فیصد جگہ گھیر لیتی ہے۔ وہ ارشادات اور فرمودات کو خبر کے زمرے میں شمار نہیں کرتے۔ تشدد یا دھمکی ان کے خیال میں کمزوری کی دلیل ہے اور اس پر وہی لوگ اترتے ہیں جن کے پاس دلائل نہیں ہوتے۔ پریس کے ایک بڑے حصے کو وہ عصبیت اور تفرقے کا ترجمان گردانتے ہیں۔

ان کے بقول ’تمام تر اخبارات سیاست اور سیاسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اقتصادی اور سماجی مسائل ان کے لیے چنداں اہم نہیں رہے۔ عورت کے ساتھ انصاف اور آبرو مندی کا سلوک، جہیز کی چیرہ دستی، بچوں سے لی جانے والی مشقت، بچپن کی شادی، یہ وہ مسائل ہیں جو معاشرے کے لیے بے حد اہم ہیں، ان پر کوئی توجہ نہیں۔ بڑھتی ہوی آبادی پاکستان کی سالمیت اور آزادی کا مسئلہ بن گئی ہے۔ اس مسئلے کو اخبارات میں مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔‘

نثار عثمانی نے جس سیشن میں یہ تقریر کی اس کی صدارت اختر حمید خان نے کی تھی۔ ان کے بارے میں انہوں نے سامعین کو  بتایا:

’میں کومیلا (بنگلا دیش) جا چکا ہوں۔ میں نے وہاں کا وہ سینٹر دیکھا، جہاں دیوار پر اختر حمید خان کی تصویر آویزاں ہے۔ بنگلا دیش کے لوگ آج بھی ان کا نام محبت اور احترام سے لیتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ آپ نے کیا سلوک کیا ہے ، کبھی اس پر بھی غور کریں۔‘

سچ کیا ہے؟ اس کی بہت سے تعریفیں موجود ہیں۔ نثار عثمانی نے اپنے انداز میں اس کی تعریف کی ہے۔ اس میں شامل ایک ایک نکتے پر عمل کرنا صحافی کے لیے لازم ہے۔

نثار عثمانی نے فرمایا:

’سچ وہی ہے جو بروقت یعنی اس دن بولا جائے جس دن کوئی واقعہ رونما ہوا ہو۔ سنہ 1971 کے المیے کا تذکرہ اور ضیاء الحق کی آمریت پر تبصرہ اب تاریخ تو ہے صحافت نہیں۔ جب یہ حادثے رونما ہو رہے تھے، اس وقت صحافت کی  خاموشی مجرمانہ تھی، اسے منشی گیری تو کہہ سکتے ہیں صحافت نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے: کتاب کا بار بار پڑھنا اور محبوب مصنف

اس بیان کو پڑھتے ہوئے مشتاق احمد یوسفی کی ’آبِ گم‘ کا خیال بھی آتا ہے  :

’ہر لمحے کی اپنی سچائی اور اپنی صلیب اور اپنا تاج ہوتا ہے۔ اس سچائی کا اعلان و ابلاغ بھی صرف اسی اور صرف اسی لمحے واجب ہوتا ہے۔ سو جو چپ رہا، اس نے اس لمحے سے اور اپنے آپ سے کیسی دغا کی۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ