افغانستان کو شفافیت کی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2025 کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں دوبارہ دنیا کے سب سے بدعنوان ممالک میں شامل قرار دیا گیا ہے، جہاں ملک کی پوزیشن اس سال مزید نیچے چلی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان: شفافیت اور احتساب کا انڈیکس جاری، 67 فیصد عوام کو بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا
رپورٹ کے مطابق افغانستان نے 100 میں سے صرف 16 پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور 182 ممالک میں 169 ویں مقام پر رہا، جو گزشتہ سال کے اسکور 17 اور 165 ویں درجہ سے مزید تنزلی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا یہ انڈیکس عوامی شعبے میں بدعنوانی کے تاثر کو صفر (انتہائی بدعنوان) سے لیکر 100 (انتہائی شفاف) کے پیمانے پر ناپتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سمیت کئی دیگر ممالک میں بدعنوانی کی صورتحال تشویشناک حد تک برقرار ہے، خاص طور پر ایسے ممالک جہاں شہری آزادی، شفاف سیاسی مالیات اور آزاد عدلیہ جیسے عوامل محدود ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں دنیا کے سب سے کم بدعنوان ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور ناروے کو شامل کیا گیا ہے۔
اسی فہرست میں سب سے بدعنوان ممالک کے طور پر جنوبی سوڈان، صومالیہ، وینزیویلا، یمن اور لیبیا کے نام سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ گلوبل اوسط سی پی آئی اسکور 42 تک گر گئی ہے، جو گزشتہ دہائی میں پہلی بار اس سطح تک پہنچا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کمزور پڑ رہے ہیں۔














