پاکستان کس ملک کے ساتھ کتنی تجارت کرتا ہے؟

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اور اس کے ہمسایہ و علاقائی ممالک کے درمیان تجارت کے تازہ سرکاری اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کو نمایاں تجارتی سرپلس حاصل ہوا جبکہ چند بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ خسارہ بدستور برقرار ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں افغانستان کو پاکستان کی برآمدات 1 ارب 390 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 607 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم تقریباً 1 ارب 998 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 783 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات پر زور

ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے پاکستان کو خسارے کا سامنا ہے۔ رواں مالی سال میں ایران سے درآمدات کا حجم 1 ارب 155 ملین ڈالر رہا جبکہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ یوں پاکستان کو ایران کے ساتھ 1 ارب 155 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو مجموعی طور پر سرپلس حاصل رہا۔ ازبکستان کے ساتھ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی برآمدات 79.5 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 26 ملین ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں 53 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس سامنے آیا۔ قازقستان کے ساتھ پاکستان نے 170 ملین ڈالر سے زائد کی برآمدات کیں جبکہ درآمدات محض 1.6 ملین ڈالر رہیں، یوں تجارتی سرپلس 170 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

تاجکستان اور کرغزستان کے ساتھ بھی پاکستان کو تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔ تاجکستان کے ساتھ برآمدات 14.6 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 0.5 ملین ڈالر رہیں۔ اسی طرح کرغزستان کے ساتھ پاکستان کی برآمدات 4.8 ملین ڈالر اور درآمدات 0.3 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: سیاست اور خراب سفارتی تعلقات، پاک افغان تجارت میں کتنا نقصان ہورہا ہے؟

ترکمانستان کے ساتھ پاکستان کو معمولی تجارتی خسارے کا سامنا رہا، جہاں برآمدات 1.2 ملین ڈالر اور درآمدات 3.6 ملین ڈالر رہیں۔

دوسری جانب چین کے ساتھ تجارت میں خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں چین کو پاکستان کی برآمدات 2 ارب 375 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 17 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 19 ارب 376 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 14 ارب 626 ملین ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

بھارت کے ساتھ تجارت بدستور معطل ہے، تاہم ادویات کی درآمد جاری ہے۔ رواں مالی سال میں بھارت سے پاکستان کی درآمدات 295 ملین ڈالر سے زائد رہیں جبکہ برآمدات صفر رہیں، جس کے باعث اتنا ہی تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بنگلہ دیش کو پاکستان کی برآمدات 785 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 52 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کو 732 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

ماہرین کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی برآمدات پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہیں، تاہم چین، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ