سپریم کورٹ کی جانب سے ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر کیے گئے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد اپنی 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان صفدر نے کہا کہ انہوں نے عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور اپنی استعداد کے مطابق ذمہ داری نبھائی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے
انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں میڈیا میں بے بنیاد خبریں نشر کی گئیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کو بھی واضح کیا کہ وہ ملاقات سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کر سکتے، جس پر دونوں نے ان کے مؤقف سے اتفاق کیا۔
سات صفحات پر مشتمل 22 پیراگراف رپورٹ ہے، عمران خان کی صحت پر کل میں نے کوئی بیان نہیں دیا، فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی میڈیا سے مختصر گفتگو pic.twitter.com/K7RSqEwvMT
— Afaq khan (@afaqkhan1828) February 11, 2026
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کے حوالے سے سوال پر سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے میں مختلف غلط خبریں چلائی گئیں۔
تاہم وہ اس معاملے پر مزید بات نہیں کر سکتے کیونکہ تمام تفصیلات رپورٹ میں درج کر دی گئی ہیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک نہیں، سلمان صفدر نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ رپورٹ میں سب کچھ تحریر کر دیا گیا ہے۔
’صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ رپورٹ 7 صفحات اور 22 پیراگراف پر مشتمل ہے، جو ایک جامع رپورٹ ہے، جو دیکھا اور سنا، سب ایمانداری سے درج کیا، یہ سپریم کورٹ کی امانت تھی جو جمع کرادی۔‘
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ قرار دیتے ہوئے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔
جس کے بعد سلمان صفدر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں 3 گھنٹے سے زائد وقت گزارا تھا، تاہم ملاقات کے بعد بھی انہوں نے میڈیا کو کسی قسم کی تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔













