پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، جو مئی 2024 میں دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہوئے تھے، اب تک پارٹی کو مکمل طور پر متحرک کرنے سے گریزاں دکھائی دے رہے ہیں۔ تقریباً 2 سال گزرنے کے باوجود نواز شریف عوامی رابطہ مہم شروع کرنے یا ملک بھر میں جلسے جلوس منعقد کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
نواز شریف کی حکمت عملی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا بنیادی فوکس گورننس اور عوامی بہبود پر ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد پہلے 3 سے 4 سال تک حکمرانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے، جبکہ سیاسی سرگرمیاں آخری ڈیڑھ سال تک محدود رکھی جائیں۔ مزید برآں، وہ ابھی کوئی نیا بیانیہ بنانے کے موڈ میں بھی نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ گورننس کے ماڈل کو ہی بیانیہ بنا کر عوام کے درمیان جایا جائے، کیونکہ پاکستان میں نواز شریف کا ایک مضبوط ووٹ بینک موجود ہے اور وہ اپنے ووٹرز کو کارکردگی کی بنیاد پر متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟
نواز شریف کی یہ حکمت عملی ان کی سیاسی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک نواز شریف کو ’ترقی کا معمار‘ کہا جاتا ہے، جنہوں نے موٹرویز، سی پیک جیسے میگا پراجیکٹس اور صنعتی شعبے کی بحالی پر زور دیا۔ 2017 میں پاناما کیس میں نااہلی کے بعد وہ 7 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اکتوبر 2023 میں وطن واپس آئے۔
فروری 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت بنائی، جبکہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف وزیراعظم بنے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں۔ مئی 2024 میں نواز شریف بلا مقابلہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، مگر اس کے بعد سے پارٹی کی تنظیمِ نو یا عوامی مہم کا کوئی بڑا اقدام سامنے نہیں آیا۔
پہلے کام کرو، پھر ووٹ مانگو
2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ’خدمت کو ووٹ دو‘ تھا، جو ترقی اور عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں کی عکاسی کرتا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف 2029 کے آئندہ انتخابات میں بھی اسی بیانیے کو آگے لے کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق نواز شریف کا موقف واضح ہے: پہلے کام کرو، پھر ووٹ مانگو۔ وہ نہ صرف خود سیاسی سرگرمیوں سے گریز کرتے ہوئے گورننس پر توجہ دے رہے ہیں بلکہ مریم نواز کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سیاست بعد میں، پہلے حکمرانی کا ماڈل مضبوط کیا جائے۔
اسی وژن کے تحت پنجاب میں متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں جو نواز شریف کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے لاہور میں بسنت کی رونقیں عروج پر، نواز شریف بھی ڈور اور گڈا پکڑے جشن میں شریک ہوئے
بسنت فیسٹیول، جو برسوں سے پابندی کا شکار تھا، بحال کیا گیا ہے تاکہ ثقافتی سرگرمیاں فروغ پائیں۔ اسی طرح میلہ مویشیاں کی بحالی، تاریخی ورثے کی جگہوں کی مرمت اور پنجاب بھر میں ترقیاتی کاموں کا تسلسل جاری ہے۔ یہ سب اقدامات نواز شریف کے ’ڈویلپمنٹ فرسٹ‘ فلسفے کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف پارٹی کے اندر تنظیمی تبدیلیاں بھی اسی وقت کریں گے جب گورننس کے نتائج عوام تک پہنچ جائیں گے۔ اس وقت تک وہ عوامی رابطہ مہم یا جلسوں سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ حقیقی کارکردگی ہی ووٹرز کو قائل کرے گی۔ یہ حکمت عملی مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔














