وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کشمیری شناخت کو مٹا نہیں سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے کا آپٹیکل فائبر منصوبہ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے عوام کو خوشخبری سنا دی
یومِ یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ایک بین الاقوامی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر پاکستان کے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے اور یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی اصولی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور آزاد جموں و کشمیر جمہوری طرزِ حکمرانی اور ترقی کی زندہ مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری اپنا مستقبل پاکستان سے جوڑنے کا فیصلہ اس کے قیام سے قبل ہی کرچکے تھے، وزیراعظم آزاد کشمیر
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام حقِ خودارادیت کے استعمال کے مکمل اہل ہیں اور امن طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور بامعنی مکالمے سے ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تشویش سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔













