تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ

جمعرات 12 فروری 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے پچھلے کالم ‘مغربی تہذیب کا انہدام’ پر ایک مہربان نے طبع آزمایی فرمائی ہے مگر ہمارا نام لیے بغیر۔ اس طبع آزمائی میں 2 خوبیاں ہیں جن کا حوالہ نہ دینا ناانصافی ہوگی۔

 آج کل کے ماحول میں جب کسی کے خیالات سے اختلاف ہو یا پڑھ کر سخت ناگواری محسوس ہو تو خیالات سے قبل صاحب خیال کو ہی نوک قلم پر لا کر اس کی تحقیر کی جاتی ہے۔ مقصد اس کا بس اتنا سا ہوتا ہے کہ خیال پر تنقید اگر کمزور بھی ثابت ہوجائے تو کم از کم صاحب خیال کی تو دھلائی ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:مغربی تہذیب کا انہدام!

یوں ہمارے مہربان نے ہمارا ذکر تک نہ کرکے اپنی فکری شرافت کا اظہار کیا ہے۔ اور اعلان کیا ہے کہ مجھے صاحب فکر سے نہیں بلکہ پیش کردہ فکر سے ہی غرض ہے، اور میں اسی پر بات کروں گا۔

ظاہر ہے یہ بڑی بات ہے جس کی قدر ہم پر واجب ہے۔ دوسری خوبی ان کے جواب میں یہ نظر آئی کہ ان کا پورا موقف کامل سنجیدگی اور متانت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ فکری گفتگو میں یہ ماحول اب خال خال ہی نظر آتا ہے۔ سو ہم بھی ان کا نام ‘صیغہ راز’ میں رکھ کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔

ہمارے گزشتہ کالم کا بنیادی مقدمہ اس کے عنوان میں ہی ہم نے سمیٹ دیا تھا ‘مغربی تہذیب کا انہدام’ اس کے جواب میں ہمارے مہربان نے اپنا اختلاف شروع ہی یوں کیا ہے

‘کوئی نظریہ اس طرح فنا نہیں ہوتا۔ لبرلزم کو اس سے قبل کہیں زیادہ بھیانک اور وسیع اور گہری سطح پر ایک بے انتہا غارت گر، بے انتہا دہشت گرد نظریہ ہونے کے الزام کا سامنا کرنا پڑا ہے’

لطف کی بات یہ کہ ان کے اس دعوے سے ہمیں 100 فیصد اتفاق ہے۔ اس سے رتی برابر اختلاف کی بھی گنجائش نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے نظریے یعنی لبرلزم کے انہدام اور فنا کی بات کی تھی؟ ہم نے تو مغربی تہذیب کے انہدام کی بات کی تھی اور یہ نظریے کے ناقابل فنا ہونے کا دعوی فرما رہے۔ یوں ہمارے دعوے کے مقابل ان کا موقف بعد المشرقین سے بھی آگے کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

اس بعد المشرقین کو سمجھنے کے لیے لازم ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ تہذیب اور اس کے اجزائے ترکیبی ہوتے کیا ہیں؟ تہذیب خیال نہیں ہوتی، اس میں شامل ہوتے ہیں ریاستی طاقت، ادارے، عالمی اثر و رسوخ، اخلاقی وقار، ثقافتی بالادستی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کے لیے نمونہ بننے کی صلاحیت۔ یہ محض ہمارا ہی ماننا نہیں بلکہ ابن خلدون سے لے کر ٹائن بی، اور اسپینگلر تک سب کا موقف ہے۔

اس کے برخلاف نظریہ محض ایک فکر ہے۔ جو فقط لٹریچر میں بھی ہوسکتا ہے، صرف ذہنی اور ذہنی و وجودی دونوں صورتوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ پھر وجودی میں بھی یہ محض معاشرتی سطح پر بھی ہوسکتا ہے اور ریاستی تصور کی صورت بھی۔ حتی کہ یہ ریاستی شکست کے بعد بھی موجود رہ سکتا ہے۔

مثلا سوویت یونین ختم ہوگیا مگر مارکسزم اب بھی موجود ہے۔ اسے ماننے والے بعض تو ہمارے گہرے دوستوں میں بھی شامل ہیں۔ لہذا جب ہمارا چاول یہ ہے کہ مغربی تہذیب منہدم ہو رہی ہے تو اس کے جواب میں لبرلزم کے ناقابل فنا ہونے کا دعوی لانا ‘جواب چنا’ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

اب آگے دیکھیں، ہم نے ایک ضمنی دعوی پیش کیا تھا کہ جیفری ایپسٹین کیس نے مغرب کی اخلاقی برتری کے دعوے کو زمیں بوس کردیا ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ جرائم ہر جگہ ہوتے ہیں، جرائم سے نظریے ختم نہیں ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ دعویٰ کیا ہی کب ہے کہ جرائم نظریات کو ختم کردیتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: فقیہ، عقل اور فلسفی

ہمارے دعوے کا جواب تو یہ بنتا تھا کہ جیفری ایپسٹین کیس سے مغرب کی اخلاقی برتری ختم نہیں ہوئی، اور اس کی یہ دلیل ہے۔ اس سے بھی آگے دیکھیں، ہم نے اپنے کالم کے آخر میں اس نکتے کی جانب توجہ دلائی تھی کہ یہ ڈیٹا سرچ کر لیا جائے کہ امریکہ میں ہر سال ریپ کے کتنے لاکھ واقعات ہوتے ہیں؟ اور یہ بھی کہ ان میں کتنی بچیاں خود سگے یا سوتیلے باپ کی ہی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا

‘چاہے جتنے بھی اعداد و شمار پیش کیے جائیں، جرائم کسی نظریے کا حصہ یا نتیجہ نہیں ہوتے’

یہ سطر پڑھ کر ہم دنگ رہ گئے۔ کیونکہ یہ دعویٰ کوئی ایسا ذہن کرسکتا ہے جو نظریات کی ریاستی سطح کی کشمکش کی تاریخ سے واقف نہ ہو۔ اگر مان لیا جائے کہ جرائم نظریے کا نتیجہ نہیں ہوتے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محکوم کا استحصال جرم نہیں۔

 ماننا پڑے گا کہ فاشزم پر لگے الزامات بکواس ہیں۔ اور ہٹلر کے ہولوکاسٹ کا اس کے نظریے سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ حتی کہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ان کی پوری تاریخ میں ہونے والے ہر طرح کے جرائم کا بھی صیہونی نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ جرائم تو نظریے کا حصہ یا نتیجہ نہیں ہوتے۔ ہماری عمر 55 برس ہے، یہ موقف تو 12 سال کا بچہ بھی قبول نہ کرے۔

آگے چل کر ہمارے مہربان نے فلاسفہ پر شیخ چلی کو ترجیح دے کر ایک عجیب و غریب خیالی پلاؤ پیش کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ لبرلزم ابھی ایک معصوم سا کاکا ہے، بچہ ہے جسے آگے چل کر بڑا بھی ہونا ہے اور طویل عمر بھی پانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منرو ڈاکٹرائن اور اس کی بگڑتی شکلیں

اس کے ذریعے وہ بنا کہے ہمیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کے محلات اور جزیرے پر جو کچھ ہوتا رہا وہ بس ایک معصوم کاکے کی شرارتیں تھیں۔ جانتے ہیں اس دعوے کو ہم نے شیخ چلی سے کیوں جوڑا؟ کیونکہ یہ فلسفہ نہیں ‘خواہش’ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے حق میں کوئی دلیل لائے اور نہ ہی تھیوری۔ اس کے برخلاف پیٹرک ڈینین اپنی 2018 میں شائع ہونے والی کتاب Why Liberalism Failed میں لکھتے ہیں

‘لبرلزم اپنی کامیابی کی وجہ سے ناکام ہو گیا، اس نے طاقت حاصل کرنے کے بعد اخلاقی بنیاد کھو دی’

گویا پیٹرک ڈینین کے نزدیک لبرلزم وہ معصوم کاکا نہیں جس کے منہ میں چوسنی اور گود میں جیفری ایپسٹین کے عطا کردہ گڈے گڈیاں ہیں، بلکہ وہ بڈھا ہے جو کامیاب زندگی گزارنے کے بعد اب قبر میں پیڑ لٹکائے بیٹھا ہے۔

ہمارا پچھلا کالم اگر آپ بغور پڑھیں تو وہاں مغربی تہذیب کے انہدام پر تین سطحوں پر جا کر بات کی گئی ہے۔ اخلاقی سطح، ادارہ جاتی سطح، اور تہذیبی سطح۔ لیکن جواب کیا دیا جا رہا ہے؟ یہ کہ لبرلزم ختم نہیں ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی پورے استدلال کے ساتھ کہے، رومن ایمپائر ختم ہو رہی ہے۔ اور جواب یہ دیا جائے کہ لاطینی زبان ختم نہیں ہوسکتی۔ فلسفے کی زبان میں اسے کٹیگری ایرر کہا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب منہدم ہو رہی ہے؟ گزارش ہے کہ تہذیبوں کے انہدام کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اجزائے ترکیبی میں پہلے دراڑ پڑتی ہے اور پھر یہ دراڑیں بڑے شگاف بن کر پوری عمارت کو ہی اس مقام تک پہنچا دیتی ہیں جہاں انہدام آخری انجام ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تہذیبی کشمکش اور ہمارا لوکل لبرل

 ان اجزائے ترکیبی میں سے ایک ہی ایسا ہے جس میں پڑنے والی دراڑ ناقابل مرمت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے ‘اخلاقی وقار’۔ اب سمجھنے والا نکتہ یہ ہے کہ تہذیبوں کے اجزائے ترکیبی میں سے بالعموم پہلی دراڑ اسی میں پڑتی ہے اور یہی دراڑ پھیل کر باقی اجزائے ترکیبی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ محض ایک ملا کا دعوی نہیں، اس کی سپورٹ میں تاریخ اور فلسفہ دونوں یک زباں ہیں۔ ملاحظہ کیجئے

رومن ایمپائر، اخلاقی زوال، طاقت کا خاتمہ، تہذیبی خاتمہ۔ عباسی تہذیب، عیش پرستی، اخلاقی زوال، تہذیبی انہدام۔ مسلم اندلس، اخلاقی بگاڑ، طاقت کا زوال، مکمل خاتمہ۔ عثمانی خلافت، اخلاقی مسخرہ پن، اداروں کا زوال، مکمل خاتمہ۔ لگ بھگ ہر جگہ آپ کو ایک ہی پیٹرن ملے گا۔

اب یک وضاحت بھی کردیں، ورنہ کسی اگلے مہربان نے کہہ دینا ہے کہ آپ نے اس لسٹ میں سلطنت، ریاست اور تہذیب کو خلط ملط کیوں کردیا؟ ہر تہذیب میں داخلی طور پر اقتدار اور طاقت کی ایک رسہ کشی بھی چلتی ہے۔

یوں تہذیبوں میں داخلی سطح پر طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں۔ مسلم تہذیب میں بھی یہ ہوا تھا اور رینسانس کے بعد والی مغربی تہذیب میں بھی۔ سپینش راج، فرنچ راج، برٹش راج، اور امریکی راج اس کی بڑی مثالیں ہیں۔

اب آیئے ہمارے دعوے کے حق میں فلسفیانہ سپورٹ کی جانب۔ ہمارا قاری جانتا ہے کہ ہم اپنی تحاریر بڑی شخصیات کے حوالوں سے مزین نہیں کرتے۔ اسے ہم محض علمی شوبازی سمجھتے ہیں۔ ہمارا اظہار شعور کے دم پر آگے بڑھتا ہے اور اپنا استدلال خود تخلیق کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیو پالیٹکس اور مذہبی عینک

 احتیاط ہم بس ایک ہی کرتے ہیں کہ ہمارا دعوی یا دلیل علم سے متصادم نہ ہو، ورنہ وہ باطل ہوجائے گا۔ لیکن اگر کوئی ہمارے موقف کو چیلنج کرے کہ یہ علمی طور پر درست نہیں تو پھر ہم موضوع کی مناسبت سے بڑی شخصیات کے حوالے پیش کرکے واضح کردیتے ہیں کہ ہمارا دعوی یا دلیل علم سے متصادم نہیں۔

چنانچہ تہذیبوں کے زوال میں اخلاقی زوال کے مرکزی رول کی نسبت سے چند بڑی شخصیات کے حوالے حاضر ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی فرماتے ہیں ‘تہذیبیں قتل سے نہیں، خودکشی سے مرتی ہیں، حاکم طبقے کی اخلاقی ناکامی کلیدی ہے’۔

مغربی اشرافیہ اس کی مثال بنی کہ نہیں؟

اوسوالڈ اسپینگلر اپنی کتاب ‘مغرب کا زوال’ میں لکھتے ہیں ‘ہر تہذیب ایک ایسے مقام پر پہنچتی ہے جہاں اس کی اخلاقی روح ختم ہو جاتی ہے اور وہ صرف ایک مشین بن جاتی ہے’

مغربی تہذیب اپنے عروج پر آ کر اخلاق سے محروم محض ایک مشین بنی کہ نہیں؟

ہینا آرنٹ ‘The Origins of Totalitarianism’ میں لکھتی ہیں ‘جب اشرافیہ اخلاقی ذمہ داری چھوڑ دیتی ہے، تو معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے’

جیفری ایپسٹین کیس اس کی عملی مثال ہے، ہے نہ؟

راجر سکروٹن فرماتے ہیں ‘لبرل معاشرے اتنی دیر چلتے ہیں جتنی دیر اخلاقی سرمایہ باقی رہے’

امید کرتے ہیں کہ ہمارا مقدمہ آپ کے لیے مزید واضح ہوچکا ہوگا۔ سو بات کو میشل فوکو کے مشہور زمانہ سچ پر ختم کرتے ہیں۔ ‘طاقت ہی سچ پیدا کرتی ہے’ یعنی غلبہ طاقتور کے اس سچ کو حاصل ہوتا ہے جو فی الحقیقت سفید جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔

چنانچہ ایپسٹین کیس کے پس منظر میں طاقتوروں نے ایک سچ کی تخلیق ابھی سے شروع کردی ہے۔ یہ کہ جیفری ایپسٹین روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ایجنٹ تھا، جس نے ہم معصوموں سے نابالغ بچیوں کے ریپ کروائے، اخلاقی حالت اب بھی یہ ہے کہ جب برطانوی نیوز چینل سکائی نیوز نے طاقتور کا یہ سچ نشر کرنے کے بعد اسے یوٹیوب پر ڈالا تو اس کلپ کے کمنٹس آف کردیے، تاکہ کوئی کمنٹس بار میں اس سچ کو چیلنج نہ کرسکے۔ کیا طاقتور کا یہ سچ مغربی تہذیب کے انہدام کو روک پائے گا؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

نثار عثمانی اور محمد ضیاء الدین: پاکستانی صحافت کا وقار