وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد میں ہونے والے خود کش حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پہنچے جہاں انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور شہدا کے درجات بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد دہشتگردی: خود کش حملہ آور کی والدہ اسلام آباد سے گرفتار
وزیراعظم نے خود کش حملہ آور کو روکنے والے شہید عون عباس کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا، جبکہ دیگر شہدا کے اہل خانہ کے لیے 50،50 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ترلائی کی مسجد میں شہید ہونے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا اعلان pic.twitter.com/suSW7kIyWU
— WE News (@WENewsPk) February 11, 2026
انہوں نے حملے کے زخمیوں کو 30،30 لاکھ روپے دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ شہدا کے بچوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا اعلان بھی کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے نے پوری قوم کو یکجا کردیا، افواج پاکستان قوم کے لیے ہر روز قربانیاں دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کا کوئی دین اور مذہب نہیں، اس اندوہناک واقعے پر پوری قوم سوگوار ہے، دہشتگردی کے اس واقعے نے ہر دل کو دکھی کردیا۔
Sobering to witness PM @CMShehbaz’s visit to the Tarlai Imambargah and meet families of the martyrs of the terror attack.
May Allah raise the stature of the shuhada, grant peace to the families they leave behind, health and recovery to those injured.
iA Pakistan will bring… pic.twitter.com/MCFK8KvHAj
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) February 11, 2026
انہوں نے کہاکہ تمام مکاتب فکر کے علما نے دہشتگردی کی مذمت کی، ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعظم نے کہاکہ خود کش حملہ آور کو روکنے والے شہید عون عباس کی قربانی کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائےگا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں دہشتگردی کے واقعہ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھیں: ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: پی ٹی آئی کی اسلام آباد اور وانا میں دہشتگردی کی مذمت
واضح رہے کہ کچھ روز قبل جمعہ کی نماز کے دوران ترلائی کی امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خود کش دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد شہید ہوگئے تھے۔














