افغانستان اور بھارت کو خطے میں پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک طویل عرصے سے مبینہ طور پر سازشوں اور پراکسی جنگ کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، سیاست میں رخنہ نہیں ہونا چاہیے، وزیر دفاع خواجہ آصف
افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشتگرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جبکہ بھارت پر ان گروہوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت کا الزام عائد کیا جاتا ہے، اور سرحد پار کارروائیوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی پشت پناہی کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں چینی شہریوں، سی پیک منصوبوں اور اقتصادی روابط پر ہونے والے حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اسے محض اتفاق قرار دینے کے بجائے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں ترقی اور استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
اس صورتحال کے باعث وسطی ایشیا سے ملحقہ ریاستیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں، جس سے علاقائی اقتصادی اور سیکیورٹی مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاملہ صرف زمینی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اطلاعاتی جنگ، میڈیا مہمات، سفارتی سرگرمیوں اور عالمی فورمز پر بیانیہ سازی کے ذریعے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایک طرف دہشتگردی کے واقعات اور دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی کو موجودہ علاقائی منظرنامے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کب تک ان مبینہ سازشوں کا سامنا کرتا رہے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ پراکسی جنگوں، دباؤ اور دہشتگردی کی سیاست سے خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے، جبکہ پائیدار امن اور ترقی اسی صورت ممکن ہے جب ریاستیں ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کو فروغ دیں۔













