ن لیگ اور پی ٹی آئی سے مایوس جاوید ہاشمی کی فوج پر تنقید، عوام نے سوالات اٹھا دیے

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کبھی مسلم لیگ ن تو کبھی پی ٹی آئی کے در پر بھٹکنے والے سیاستدان جاوید ہاشمی آج کل دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے کیوں کہ کوئی پارٹی ان پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا سارا غصہ پاک فوج پر نکال رہے ہیں۔

جاوید ہاشمی کے حالیہ بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں ان کے طرزِ سیاست پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

کسی سیاسی جماعت کی جانب سے پذیرائی نہ ملنے پر جاوید ہاشمی مایوس

ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار کرنے کے باعث ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور اس وقت وہ کسی بڑی جماعت کا حصہ نہیں ہیں، اور اندر ہی اندر سے ان کو یہی غم کھائے جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی کی جانب سے ان کو پذیرائی کیوں نہیں دی جارہی۔

حالیہ دنوں میں جاوید ہاشمی کی جانب سے پاک فوج سے متعلق دیے گئے بیانات پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنی سیاسی تنہائی اور مایوسی کا اظہار اداروں پر تنقید کی صورت میں کررہے ہیں۔

جاوید ہاشمی کی طبیعت میں مستقل مزاجی نہیں، تجزیہ کار

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور واضح مؤقف اہمیت رکھتے ہیں، اور بار بار جماعتی وابستگی تبدیل کرنے سے سیاسی ساکھ متاثر ہو جاتی ہے اور یہی جاوید ہاشمی کے ساتھ ہوا۔

تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ پاک فوج جو اندرونی اور بیرونی محاذ پر دشمن کے خلاف لڑ رہی ہے اس کے خلاف مہم چلانا آخر کس کا ایجنڈا ہو سکتا ہے؟

عوامی حلقوں میں بھی جاوید ہاشمی کے فوج کے خلاف بیانات کو رد کیا جارہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے، لہٰذا فوج کے خلاف مہم چلانے سے گریز کیا جائے۔

جاوید ہاشمی کی ایک بار پھر پی ٹی آئی سے قربت کے لیے کوششیں

واضح رہے کہ 2013 کے الیکشن سے قبل جاوید ہاشمی پی ٹی آئی کا حصہ بنے، پھر بعد ازاں تحریک انصاف کو خیرباد کہہ کر ایک بار مسلم لیگ ن کا رخ کیا، لیکن اپنی طبیعت کے عین مطابق زیادہ عرصے تک وہاں بھی نہ رک سکے اور اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

’چونکہ پی ٹی آئی پاک فوج اور قیادت کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے، اسی لیے جاوید ہاشمی بھی اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تاکہ انہیں پارٹی میں کوئی جگہ مل سکے، لیکن تحریک انصاف کی جانب سے بھی اب ان پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں پہنچنے کے بعد بھی جاوید ہاشمی کی طبیعت میں مستقل مزاجی نہیں آسکی، ان کو چاہیے کہ سیاسی جماعتوں پر بے شک تنقید کریں لیکن وطن کی محافظ افواج پاکستان کے خلاف زہر نہ اگلیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا قیادت میں تبدیلی کی کوششیں تیز، نوجوان قیادت جنید اکبر کے خلاف کیوں؟

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟