وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی کو ختم کرنے سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر بے بنیاد ہے اور حکومت نے تاحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ محرومی نہیں، مصالحتی پالیسی کی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہوا، سرفراز بگٹی
ژوب کے دورے کے دوران قبائلی عمائدین اور مقامی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محبت اور اعتماد ان کے لیے باعث اعزاز ہے اور حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کوشاں ہے۔
ضلع شیرانی کی حیثیت برقرار رکھنے کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ضلع شیرانی کی انتظامی حیثیت برقرار ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نئی ذمے داری، چیف آف بگٹی قبائل مقرر
ان کا کہنا تھا کہ ضلع شیرانی سے متعلق امور پر مقامی رکن صوبائی اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ نشست کی جائے گی تاکہ تمام معاملات مشاورت سے طے کیے جا سکیں۔
متوازن ترقی حکومت کی ترجیح
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت فیصلے انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن اور یکساں ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں: ‘کیا بارش برسانا میرے بس میں ہے؟’ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ کیوں پوچھا؟
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے ہر علاقے کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔











