محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟ وہ جمہوریت کی محبت میں آتش فشاں بنے ہوئے ہیں یا پنجاب سے غصے اور نفرت کی شدت ایسی ہے جس نے ان سے توازن چھین لیا ہے؟
قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی صاحب گرجے اور برسے۔ تاریخ اور حقائق سے نا بلد نسل تو شاید ان کی گرمی گفتار سے متاثر ہو گئی ہو لیکن جو حقائق سے آگہی رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اچکزئی صاحب حقائق بیان نہیں کر رہے تھے ، وہ قوم پرستی کا زہر تھوک رہے تھے۔
اچکزئی صاحب کی اکثر باتیں، میں ایک اچھے سیاست دان کے تفردات سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہوں لیکن اب کی بار انہوں نے جو فرد جرم عائد کی ہے، ان کے سارے احترام کے باوجود اس کا جواب دینا ضروری ہے تا کہ ریکارڈ درست رہے، سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
اچکزئی صاحب نے پنجاب کو حسب عادت سینگوں پر لیا اور کہا کہ یہاں کے لوگ انگریز کے ساتھ مل کر ہمارے پشتونوں اور بلوچوں کے علاقوں پر حملہ آور ہوتے تھے لیکن ہم نے تو کبھی گلہ نہی کیا۔ ذرا غور فرمایے کیا ’تجاہل مشرانہ‘ ہے۔ کیسی سادگی ہے اور پاکی داماں کی کیسی حکایت ہے، الامان۔
انگریز کا ساتھ متحدہ ہندوستان میں کیا صرف پنجاب کے لوگوں نے دیا تھا؟ کیا یہ صرف پنجاب کے لوگ تھے جو انگریزی فوج کا حصہ بنتے رہے؟ تعصب جو مرضی کہتا رہے، حقائق اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا، افغانستان اور پاکستان
جنگ عظیم میں عثمانی ترکوں سے لڑنے ہندوستان بھر سے فوجی بھیجے گئے۔ آج اگر مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی بجائے یہود کے قبضے میں ہے تو اس میں ان کا کردار بھی شامل ہے جو یہاں سے انگریزی فوج میں شام ہو کر لڑنے گئے۔ ان کی مقبوضہ فلسطین میں یادگاریں موجود ہیں۔ یروشلم میں یہودیوں نے ان کی قبروں سے لاشے نکال کر پھینک دیں لیکن وہاں دفن ہونے والوں کی ایک فہرست اب بھی موجود ہے۔ اس فہرست پر نظر ڈالیں تو وہاں پنجاب اور سندھ کے ہی نہیں موجودہ کے پی کے، سے جانے والوں کے نام بھی موجود ہیں۔
میں ان کے نام ولدیت لکھنا مناسب نہیں سمجھتا لیکن ان کے ناموں کے آگے کوٹی گڑھی، مردان، پشاور، شمال مغربی سرحدی صوبہ، کوٹہ، صوابی، پشار اور شاوازان جیسے علاقوں کے نام موجود ہیں، یہ ریکارڈ کا حصہ ہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح حیفہ میں بھی ایک قبرستان موجود ہے، فہرست موجود ہے، قبریں بھی موجود ہیں۔ کیا اس کی تفصیل بھی میں بیان کروں کہ کون سا سورما کس علاقے سے گیا تھا؟
پشتونوں کی بہادری سے انکار نہیں، وہ قابل فخر لوگ ہیں۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی ایک علاقے (پنجاب) کو لعن طعن کرنے سے اپنی نفرت یا غصہ تو نکالا جا سکتا ہے لیکن اس کا دلیل کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں۔
موقع بہ موقع پنجاب پر نشتر زنی کے بعد اچکزئی صاحب کس معصومیت سے فرماتے ہیں کہ ادھر (پنجاب سے) آپ لوگ انگریز کے ساتھ مل کر ہمارے علاقوں ( کے پی اور بلوچستان) پر چڑھائی کرتے رہے لیکن ہم نے تو کوئی گلہ نہیں کیا۔ اسمبلی میں کوئی ہوتا تو ان سے کہتا کہ عالی جاہ! آپ کے لوگ جو ماضی بعید میں ادھر سے آئے لشکروں کے ساتھ پنجاب پر چڑھ دوڑتے تھے، ہم نے اس پر کب گلہ کیا؟ کیا ہم نے کبھی بابے بلھے شاہ کا یہ شعر پڑا کہ :کھادا پیتا لاہے دا ، باقی احمد شاہے دا۔
آگے چلیے، ذرا بلوچستان کا احوال بھی دیکھ لیجیے، بلوچستان کی حریت پسندی سے بھی انکار نہیں لیکن اچکزئی صاحب نے جو نتیجہ فکر نکالا ہے وہ ناقص ہے۔ اگر پنجاب میں انگریز نواز جاگیردار مسلط تھے تو بلوچستان کے نواب اور سردار کیا تھے؟ وہ کون سے ٹیپو سلطان یا جلال الدین خوارزم شاہ کے چھوٹے بھائی تھے؟
کیا یہ سچ نہیں کہ 1839 سے قیام پاکستان تک، یہاں کا ہر نواب ہر خان انگریز کی مرضی سے حاکم بنا اور اسی کی خوشنودی سے حکومت کرتا رہا ؟
یہ بھی پڑھیں:اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟
شاہ نواز کو خان آف قلات کس نے بنایا؟ الیگزینڈر برنز اور تھامس ولشائر نے۔ یہ الگ بات کہ خان صاحب کی خانی کا دورانیہ ایک سال ہی رہا ۔ایک سال بعد جب دوسرے خان آف قلات جلوہ افروز ہوئے تو وہ بھی انگریز کی مرضی سے۔ کیا اچکزئی صاحب اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ کرنل سٹیسی کی تجویز پر میر شاہ نواز کو ہٹا کر میر نصیر خان دوم کو خان آف قلات بنایا گیا۔ گدی نشینی کی رسم بھی انگریز افسر میجر جیمز اوٹرام نے ادا کی۔
موصوف کو زہر دے کر مار دیا گیا تو انگریز ہی نے میر خدادا دخان کو والی قلات بنا دیا۔ تیسرا خان آف قلات بھی اسی انگریز کا انتخاب تھا۔کچھ عرصے بعد انگریز نے ان خان صاحب کو ہٹا کر شیر دل کو خان آف قلات بنا دیا۔ پھر تھوڑا وقت گزرا شیر دل کو ہٹا کر دوبارہ میر خدا داد خان کو والی قلات کے منصب پر بٹھا دیا۔ بعد ازاں اسے بھی ہٹا دیا گیا اور میر محمود خان کو والی قلات بنا دیا گیا۔
والیان قلات کو لانے اور اتارنے کی یہ لمبی کہانی ہے۔ اس طرز حکومت کا خلاصہ یہ ہے کہ 14 اگست کو جب پاکستان بنا تو قلات کی ریاست میں ایک بھی ہائی اسکول موجود نہیں تھا۔ خانوں اور وڈیروں کی اولادیں باہر جا کر پڑھ آتی تھیں لیکن عوام کو اس سے دور رکھا گیا۔
جو آخری خان آف قلات تھا، اس کی حریت فکر کا عالم یہ تھا کہ وہ 1933 میں چاغی لیویز فورس میں ایڈجوٹنٹ کے طور پر انگریز کی نوکری کرتا رہا۔انگریز ہی نے اسے والی قلات بنایا۔
بلوچستان میں قدیم زمانوں کا ظالمانہ نظام نافذ تھا۔ جہاں کسی انسان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ بس نواب اور وڈیرے تھے اور انگریز سرکار ان کی سرپرست تھی، اس سرپرستی کی وجہ سے انہیں آزادی تھی کہ جنگل کے بادشاہ بن کر رہیں۔ حالت یہ تھی کہ قلات کے والی میر خدا داد خان نے ایجنٹ گورنر جنرل رابرٹ سنڈیمن کے سامنے یہ بات تسلیم کی تھی کہ وہ اب تک 3500 عورتوں اور مردوں کو قتل کر چکا ہے۔ والیان ریاست کو صرف انگریز کا وفادار بن کر رہنا ہوتا تھا اور اس کے بدلے انہیں ہر طرح کے ظلم وستم کی کھلی اجازت تھی۔
یہ سرداری نظام بھی بلوچستان میں اسی ایجنٹ گورنر جنرل رابرٹ سنڈیمن نے مسلط کیا تھا۔ یہ انگریزوں کے مفاد کا تقاضا تھا۔ چنانچہ باقی صوبوں میں 1909 اور پھر 1919 میں اصلاحات نافذ کی گئیں لیکن بلوچستان میں ان کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ کیونکہ روس کے خلاف جنگی حکمت عملی کے تحت یہاں ایک خاص طرز کا نظام حکومت درکار تھا۔ انگریز کی وفاداری واحد شرط تھی اور اس کے بدلے میں سرداروں وڈیروں کو آزادی تھی کہ وہ معاشرے کو جنگل سمجھ کر معاملہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں:ایک تھا ونڈر بوائے
اچکزئی صاحب کیا اس حقیقت کا انکار کر سکتے ہیں کہ صرف ایک قائد اعظم تھے جو اس وقت بلوچستان کے حقوق کی بات کر رہے تھے، باقی تو انگریز کی بگھی میں جتے ہوئے تھے۔ قائد اعظم کے 14 نکات تو آپ ہم سب نے پڑھے ہوں گے لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ اس میں لکھے اس نکتے کا کیا مطلب تھا کہ ’بلوچستان میں آئینی اصلاحات نافذکر کے اسے دوسرے صوبوں کے برابر درجہ دیا جائے‘؟ بلوچستان کے حقوق کی بات قائد اعظم کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ مارچ 1927 میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے جو 5 نکاتی فارمولا مسلم لیگ نے پیش کیا اس کا دوسرا نکتہ ہی بلوچستان سے متعلق تھا اور لکھا تھا کہ بلوچستان میں آئینی اصلاحات نافذ کی جائیں، یہ سرزمین بے آئین نہیں رہنا چاہیے۔ اس کا حق ہے کہ اسے دوسرے صوبوں کی طرح حقوق دیے جائیں۔ دسمبر 1928 میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں بھی یہی مطالبہ شامل کیا گیا اور پھر قائد اعظم نے اپنے 14 نکات میں بھی اسی مطالبے کو شامل کیا۔ اس ماحول میں ایک قائد اعظم تھے جو بلوچستان کے عام آدمی کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔ اچکزئی صاحب نے آج تک اس کا اعتراف نہیں کیا۔ کریں گے بھی نہیں۔ دلیل پر تعصب غالب آ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
کمال دیکھیے کہ یہ سارے نواب، وڈیرے تو اچکزئی صاحب کی نظر میں حریت پسند تھے اور ایک پنجاب ہی برا تھا جس کے گناہ آج تک معاف ہونے میں نہیں آ رہے۔ پنجاب کو سامنے رکھ کر پھر چاند ماری کبھی وفاق پر کی جاتی ہے اور کبھی اردو زبان پر۔ من کا الاؤ پھر بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا تو پھر فوج کو بھی 4 اضلاع کی فوج قرار دے دیا جاتا ہے۔
پنجاب ہی کے ایک سیاستدان کے صدقے اچکزئی صاحب نے اپنے بھائی جان کو گورنر بنوایا تھا اور یہ جس رہنما نے انہیں مبلغ ایک سیٹ کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنوایا ہے وہ بھی پنجاب ہی کا ہے۔ ویسے آپ اپنے خاندان کو پاکستان کی اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں لا سکتے ہیں تو پاکستان کی فوج میں کیوں نہیں بھیج سکتے؟ کس نے روکا ہے آپ کو؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













