مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جیل چاہے سخت ہو یا نرم، قیدی پر بیماری کا اثر ضرور ہوتا ہے اور عمران خان کی ایک آنکھ اور بینائی متاثر ہونے کی خبریں پریشان کن ہیں۔ انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قیدی اور سیاسی مخالف ہونے کے باوجود عمران خان کے حقوق اور علاج کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
خواجہ سعد رفیق نے ٹوئٹ میں کہا کہ فوری اور مؤثر علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اور سیاسی مخالف ہونے کی صورت میں بھی مریض کے حقوق کی حفاظت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اصولی طور پر کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ یا پارٹی کو سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے تھی۔

انہوں نے سابقہ حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عمران خان کی علالت کے حوالے سے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر سرکاری موقف جاری کیا جائے۔ ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرائی جائے۔ ان کی مرضی کے مطابق ڈاکٹرز تک رسائی دی جائے۔ اوربہترین علاج کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:خواجہ سعد رفیق کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
خواجہ سعد رفیق کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کے تقاضے ہیں بلکہ سیاسی شرافت اور ریاستی ذمہ داری کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔














