رپورٹنگ: مقتدر راشد (بنگلہ دیش) اور فیصل کمال پاشا
بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے، ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی بڑی اپوزیشن جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے۔
ملک بھر سے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جو پارلیمنٹ میں ایک فیصلہ کن منظرنامے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
یہ انتخابات بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ جولائی انقلاب 2024 کے بعد یہ پہلا عام انتخاب اور قومی ریفرنڈم تھا۔ لاکھوں ووٹرز نے پرامن اور تہوار جیسے ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات: شیرپور‑3 میں امیدوار کی وفات، ووٹنگ ملتوی
صبح 7:30 بجے شروع ہونے والی ووٹنگ مسلسل 9 گھنٹے جاری رہی۔ ملک بھر کے 42 ہزار 659 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز نے 2 علیحدہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹ ڈالے، ایک پارلیمانی انتخاب کے لیے اور دوسرا ریفرنڈم کے لیے۔
ملک کے 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ ہوئی، جبکہ شیرپور-3 میں ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ ملتوی کردی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 2 بجے تک 36 ہزار 31 مراکز پر ٹرن آؤٹ 47.91 فیصد رہا۔
غیر سرکاری نتائج اور پارٹی اعداد و شمار کے مطابق صبح 3:50 بجے تک بی این پی اور اس کے اتحادی 170 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے تھے، تقریباً 2 دہائیوں سے اقتدار سے باہر بی این پی 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے۔
Bangladesh Election 2026 Live Updates: Tarique Rahman's BNP Claims Victory –
The New York Times https://t.co/v4kk0YmZ6e
— suhasini raj (@suhasiniraj) February 13, 2026
پارٹی کے مرکزی الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ موصولہ ووٹوں اور نشست وار تفصیلات کی بنیاد پر وہ اس کامیابی کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔
جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور پارٹی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 60 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو طلبہ تحریک کے بعد وجود میں آئی، نے بھی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال مکمل سرکاری نتائج جاری نہیں کیے گئے، تاہم مختلف حلقوں کے جزوی غیر سرکاری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ صبح 3:50 بجے تک مجموعی ٹرن آؤٹ کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان 2 نشستوں پر کامیاب
غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان اور سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپنی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ طارق رحمان، جو 17 سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے، ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 دونوں نشستوں سے کامیاب ہوئے۔
بی این پی کے دیگر اہم رہنماؤں میں خندکار مشرف حسین، مرزا عباس، عبدالمعین خان، امیر خسرو محمود چوہدری اور صلاح الدین احمد شامل ہیں جو اپنی اپنی نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی اور این سی پی کے کئی رہنما بھی اپنے حلقوں میں آگے ہیں۔
Bangladesh’s election process played out as smoothly as one could have hoped: Relatively peaceful, no major rigging allegations, solid turnout & no parties contesting the election have threatened to reject the result.
A big step for democratization, and the country can exhale.— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) February 13, 2026
انتخابی مہم 20 روز تک جاری رہی جس میں ملک بھر میں سیاسی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ اس انتخاب میں تجربہ کار سیاستدانوں کے ساتھ نئی نسل کے رہنماؤں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
مجموعی طور پر یہ انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور عوام کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جسے ملک کی جمہوری تاریخ کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔














