اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو متحدہ طور پر اس قرارداد کو منظور کیا جس کے تحت 1988 افغانستان پابندی کمیٹی کی مدد کرنے والی طالبان پابندیوں کی نگرانی ٹیم کا مینڈیٹ ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا، جو اب 17 فروری 2027 تک نافذ رہے گا۔
یہ اقدام افغانستان میں بڑھتی ہوئے سیکیورٹی خدشات، متعدد دہشتگرد گروپوں کے اثر و رسوخ میں اضافے اور خطے میں عدم استحکام کے امکان کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
پاکستان نے اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، مجید بریگیڈ اور القاعدہ کے مسلسل خطرات موجود ہیں۔
پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ گروپس پاکستان پر کچھ سب سے ہولناک دہشتگردانہ حملوں کے ذمہ دار ہیں، جن میں اس ماہ ہی 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ افغان علاقے کو دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد انسانی حقوق، اقتصادی بحران، سیاسی شمولیت کی کمی اور منشیات کے کاروبار کے چیلنجز پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، اور ڈی فیکٹو افغان حکام بعض گروپوں، خصوصاً ٹی ٹی پی، کو سہولت فراہم کرنے والا ماحول دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں سرحد پار حملوں، کمیونٹیوں کی شدت پسندی، اور تجارتی سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے دہشتگرد سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، صدر ٹرمپ
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی تنظیم عالمی سطح پر خطرہ برقرار رکھتی ہے اور ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کر رہی ہے، جبکہ داعش خراسان شمالی افغانستان میں اپنی فوجی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دیگر گروپس جیسے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی) اور بی ایل اے بھی سرگرم ہیں اور بعض علاقائی اشتراک اور تربیت کے ذریعے دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
پاکستان اور دیگر رکن ممالک نے زور دیا کہ طالبان کو دہشتگرد گروپوں کے خلاف مسلسل اور قابل تصدیق اقدامات کرنے، افغان علاقے کو بیرونی حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے وعدوں کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہے۔













